فہرست مکتوبات

1- مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت اہل کوفہ کے نام
2- جنگ جمل کے خاتمہ پر اہل کوفہ کے نام
3- شریح ابن حارث کے مکان کی دستاویز
4- عثمان ابن حنیف انصاری کے نام
5- اشعث ابن قیس عامل آذربائیجان کے نام
6- معاویہ کے نام
7- معاویہ کے نام
8- جریر ابن عبداللہ بجلی کے نام
9- معاویہ کے نام
10- معاویہ کے نام
11- زیاد ابن نضر اور شریح ابن ہانی کے نام
12- معقل ابن قیس کے نام
13- زیاد ابن نضر اور شریح ابن ہانی کے نام
14- جنگ صفین چھڑنے سے پہلے فوج کو ہدایت
15- دشمن سے دوبدو ہوتے وقت حضرت کے دعائیہ کلمات
16- جنگ کے موقع پر فوج کو ہدایت
17- بجواب معاویہ
18- عبداللہ ابن عباس عامل بصرہ کے نام
19- ایک عہدہ دار کے نام
20- زیاد ابن ابیہ کے نام
21- زیاد ابن ابیہ کے نام
22- عبداللہ ابن عباس کے نام
23- ابن ملجم کے حملہ کے بعد حضرت کی وصیت
24- صفین سے واپسی پر اوقاف کے متعلق وصیت
25- زکوۃ جمع کرنے والوں کو ہدایت
26- زکوۃ کے ایک کارندے کے نام
27- محمد ابن ابی بکر کے نام
28- معاویہ کےایک خط کے جواب میں
29- اہل بصر ہ کے نام
30- معاویہ کے نام
31- امام حسن علیہ السلام کو وصیت
32- معاویہ کے نام
33- قثم ابن عباس عامل مکہ کے نام
34- محمد ابن ابی بکر کے نام
35- عبداللہ ابن عباس کے نام
36- عقیل کے خط کے جواب میں
37- معاویہ کے نام
38- اہل مصر کے نام
39- عمر و ابن عاص کے نام
40- ایک عامل کے نام
41- ایک عامل کے نام
42- عمر ابن ابی سلمہ عامل بحرین کے نام
43- مصقلہ ابن ہبیرہ عامل اردشیرخرہ کے نام
44- زیاد ابن ابیہ کے نام
45- عثمان ابن حنیف بصرہ کے نام
46- ایک عامل کے نام
47- ابن ملجم کے حملے کے بعد حسنین علیہما السلام کو وصیت
48- معاویہ کے نام
49- معاویہ کے نام
50- سپہ سالاروں کے نام
51- خراج کے کارندوں کے نام
52- اوقات نماز کے بارے میں عہدہ داروں کے نام
53- آئین حکومت کے سلسلہ میں مالک ابن حارث کو ہدایت
54- طلحہ و زبیر کے نام
55- معاویہ کے نام
56- شریح ابن ہانی کو ہدایت
57- مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت اہل کوفہ کے نام
58- مختلف شہروں کے باشندوں کے نام
59- اسود ابن قطیبہ کے نام
60- فوج کی گزر گاہ میں واقع ہونے والے علاقوں کے حکام کے نام
61- کمیل ابن زیاد نحعی کے نام
62- اہل مصر کے نام
63- ابو موسیٰ اشعری کے نام
64- بجواب معاویہ
65- معاویہ کے نام
66- عبداللہ ابن عباس کے نام
67- قثم ابن عباس عامل مکہ کے نام
68- سلمان فارسی کے نام
69- حارث ہمدانی کے نام
70- سہل ابن حنیف عامل مدینہ کے نام
71- منذر ابن جارود عبدی کے نام
72- عبداللہ ابن عباس کے نام
73- معاویہ کے نام
74- ربیعہ اور یمن کے مابین معاہدہ
75- معاویہ کے نام
76- عبداللہ ابن عباس کے نام
77- عبداللہ ابن عباس کو ہدایت
78- بجواب ابو موسیٰ اشعری
79- سپہ سالاروں کے نام

Quick Contact

صبر دو طرح کا ہوتاہے: ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر۔ حکمت 55
(٥٣) وَ مِنْ عَھْدٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ
عہد نامہ (۵۳)
كَتَبَهٗ لِلْاَشْتَرِ النَّخَعِیِّ لَمَّا وَلَّاهُ عَلٰى مِصْرَ وَ اَعْمَالِهَا حِیْنَ اضْطَرَبَ اَمْرُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ بَكْرٍ، وَ هُوَ اَطْوَلُ عَهْدٍ وَّ اَجْمَعُ كَتُبِهٖ لِلْمَحَاسِنِ:
اس دستاویز کو (مالک) اشتر نخعی رحمہ اللہ کیلئے تحریر فرمایا جبکہ محمد ابن ابی بکر کے حالات کے بگڑ جانے پر انہیں مصر اور اس کے اطراف کی حکومت سپرد کی۔ یہ سب سے طویل عہد نامہ اور امیر المومنین علیہ السلام کے توقیعات میں سب سے زیادہ محاسن پر مشتمل ہے: [۱]
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
هَذَا مَاۤ اَمَرَ بِهٖ عَبْدُ اللّٰهِ عَلِیٌّ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ، مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ الْاَشْتَرَ، فِیْ عَهْدِهٖۤ اِلَیْهِ حِینَ وَلَّاهُ مِصْرَ: جِبَایَةَ خَرَاجِهَا، وَ جِهَادَ عَدُوِّهَا، وَ اسْتِصْلَاحَ اَهْلِهَا، وَ عِمَارَةَ بِلَادِهَا.
یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المومنین علیہ السلام نے مالک ابن حارث اشتر کو جب مصر کا انہیں والی بنایا، تاکہ وہ خراج جمع کریں، دشمنوں سے لڑیں، رعایا کی فلاح و بہبود اور شہروں کی آبادی کا انتظام کریں:
اَمَرَهٗ بِتَقْوَى اللّٰهِ، وَ اِیْثَارِ طَاعَتِهٖ وَ اتِّبَاعِ مَاۤ اَمَرَ بِهٖ فِیْ كِتَابِهٖ: مِنْ فَرَآئِضِهٖ وَ سُنَنِهٖ، الَّتِیْ لَا یَسْعَدُ اَحَدٌ اِلَّا بِاتِّبَاعِهَا، وَ لَا یَشْقٰۤى اِلَّا مَعَ جُحُوْدِهَا وَ اِضَاعَتِهَا، وَ اَنْ یَّنْصُرَ اللّٰهَ سُبْحَانَهٗ بِقَلْبِهٖ وَ یَدِهٖ وَ لِسَانِهٖ، فَاِنَّهٗ جَلَّ اسْمُهٗ قَدْ تَكَفَّلَ بِنَصْرِ مَنْ نَّصَرَهٗ، وَ اِعْزَازِ مَنْ اَعَزَّهٗ.
انہیں حکم ہے کہ اللہ کا خوف کریں، اس کی اطاعت کو مقدم سمجھیں اور جن فرائض و سنن کا اس نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے، ان کا اتباع کریں کہ انہی کی پیروی سے سعادت اور انہی کے ٹھکرانے اور برباد کرنے سے بدبختی دامن گیر ہوتی ہے۔ اور یہ کہ اپنے دل، اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے اللہ کی نصرت میں لگے رہیں۔ کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ذمہ لیا ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا، وہ اس کی مدد کرے گا اور جو اس کی حمایت کیلئے کھڑا ہو گا، وہ اسے عزت و سرفرازی بخشے گا۔
وَ اَمَرَهٗۤ اَنْ یَّكْسِرَ نَفْسَهٗ مِنَ الشَّهَوَاتِ، وَ یَزَعَهَا عِنْدَ الْجَمَحَاتِ، فَاِنَّ النَّفْسَ اَمَّارَةٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ اللّٰهُ.
اس کے علاوہ انہیں حکم ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے وقت اپنے نفس کو کچلیں اور اس کی منہ زوریوں کے وقت اسے روکیں، کیونکہ نفس برائیوں ہی کی طرف لے جانے والا ہے، مگر یہ کہ خدا کا لطف و کرم شامل حال ہو۔
ثُمَّ اعْلَمْ یَا مَالِكُ! اَنِّیْ قَدْ وَجَّهْتُكَ اِلٰى بِلَادٍ قَدْ جَرَتْ عَلَیْهَا دُوَلٌ قَبْلَكَ مِنْ عَدْلٍ وَّ جَوْرٍ، وَ اَنَّ النَّاسَ یَنْظُرُوْنَ مِنْ اُمُوْرِكَ فِیْ مِثْلِ مَا كُنْتَ تَنْظُرُ فِیْهِ مِنْ اُمُوْرِ الْوُلَاةِ قَبْلَكَ، وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْكَ مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِیْهِمْ.
اے مالک! اس بات کو جانے رہو کہ تمہیں ان علاقوں کی طرف بھیج رہا ہوں کہ جہاں تم سے پہلے عادل اور ظالم کئی حکومتیں گزر چکی ہیں اور لوگ تمہارے طرز عمل کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم اپنے اگلے حکمرانوں کے طور طریقے کو دیکھتے رہے ہو، اور تمہارے بارے میں بھی وہی کہیں گے جو تم ان حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہو۔
وَ اِنَّمَا یُسْتَدَلُّ عَلَى الصّٰلِحِیْنَ بِمَا یُجْرِی اللّٰهُ لَهُمْ عَلٰۤى اَلْسُنِ عِبَادِهٖ، فَلْیَكُنْ اَحَبَّ الذَّخَآئِرِ اِلَیْكَ ذَخِیْرَةُ الْعَمَلِ الصَّالِحِ، فَامْلِكْ هَوَاكَ، وَ شُحَّ بِنَفْسِكَ عَمَّا لَا یَحِلُّ لَكَ، فَاِنَّ الشُّحَّ بِالنَّفْسِ الْاِنْصَافُ‏ مِنْهَا فِیْمَاۤ اَحَبَّتْ اَوْ كَرِهَتْ.
یہ یاد رکھو! کہ خدا کے نیک بندوں کا پتہ چلتا ہے اسی نیک نامی سے جو انہیں بندگانِ الٰہی میں خدا نے دے رکھی ہے۔ لہٰذا ہر ذخیرے سے زیادہ پسند تمہیں نیک اعمال کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔ تم اپنی خواہشوں پر قابو رکھو اور جو مشاغل تمہارے لئے حلال نہیں ہیں، ان میں صرف کرنے سے اپنے نفس کے ساتھ بخل کرو، کیونکہ نفس کے ساتھ بخل کرنا ہی اس کے حق کو ادا کرنا ہے۔ چاہے وہ خود اسے پسند کرے یا ناپسند۔
وَ اَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِیَّةِ وَ الْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَ اللُّطْفَ بِهِمْ، وَ لَا تَكُوْنَنَّ عَلَیْهِمْ سَبُعًا ضَارِیًا تَغْتَنِمُ اَكْلَهُمْ، فَاِنَّهُمْ صِنْفَانِ: اِمَّا اَخٌ لَّكَ فِی الدِّیْنِ وَ اِمَّا نَظِیْرٌ لَّكَ فِی الْخَلْقِ، یَفْرُطُ مِنْهُمُ الزَّلَلُ، وَ تَعْرِضُ لَهُمُ الْعِلَلُ، وَ یُؤْتٰى عَلٰۤى اَیْدِیْهِمْ فِی الْعَمْدِ وَ الْخَطَاِ، فَاَعْطِهِمْ مِنْ عَفْوِكَ وَ صَفْحِكَ مِثْلَ الَّذِیْ تُحِبُّ اَنْ یُّعْطِیَكَ اللّٰهُ مِنْ عَفْوِهٖ وَ صَفْحِهٖ، فَاِنَّكَ فَوْقَهُمْ، وَ وَالِی الْاَمْرِ عَلَیْكَ فَوْقَكَ، وَ اللّٰهُ فَوْقَ مَنْ وَّلَّاكَ، وَ قَدِ اسْتَكْفَاكَ اَمْرَهُمْ، وَ ابْتَلَاكَ بِهِمْ.
رعایا کیلئے اپنے دل کے اندر رحم و رافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔ ان کیلئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نگل جانا غنیمت سمجھتے ہو۔ اس لئے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہارے جیسی مخلوقِ خدا۔ ان سے لغزشیں بھی ہوں گی، خطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور ان کے ہاتھوں سے جان بوجھ کر یا بھولے چوکے سے غلطیاں بھی ہوں گی۔ تم ان سے اسی طرح عفو و در گزر سے کام لینا جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفو و درگزر کو پسند کرتے ہو۔ اس لئے کہ تم ان پر حاکم ہو، اور تمہارے اوپر تمہارا امام حاکم ہے، اور جس(امام)نے تمہیں والی بنا یا ہے اس کے اوپر اللہ ہے، اور اس نے تم سے ان لوگوں کے معاملات کی انجام دہی چاہی ہے اور ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی ہے۔
وَ لَا تَنْصِبَنَّ نَفْسَكَ لِحَرْبِ اللّٰهِ، فَاِنَّهٗ لَا یَدَیْ لَكَ بِنِقْمَتِهٖ، وَ لَا غِنٰى بِكَ عَنْ عَفْوِهٖ وَ رَحْمَتِهٖ، وَ لَا تَنْدَمَنَّ عَلٰى عَفْوٍ، وَ لَا تَبْجَحَنَّ بِعُقُوْبَةٍ، وَ لَا تُسْرِعَنَّ اِلٰى بَادِرَةٍ وَّجَدْتَ مِنْهَا مَنْدُوْحَةً.
اور دیکھو، خبردار! اللہ سے مقابلہ کیلئے نہ اترنا۔ اس لئے کہ اس کے غضب کے سامنے تم بے بس ہو اور اس کے عفو و رحمت سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ تمہیں کسی کو معاف کردینے پر پچھتانا اور سزا دینے پر اترانا نہ چاہیے۔ غصہ میں جلد بازی سے کام نہ لو، جبکہ اس کے ٹال دینے کی گنجائش ہو۔
وَلَا تَقُوْلَنَّ اِنِّیْ مُؤَمَّرٌ اٰمُرُ فَاُطَاعُ، فَاِنَّ ذٰلِكَ اِدْغَالٌ فِی الْقَلْبِ، وَ مَنْهَكَةٌ لِّلدِّیْنِ، وَ تَقَرُّبٌ مِّنَ الْغِیَرِ. وَ اِذَا اَحْدَثَ لَكَ مَاۤ اَنْتَ فِیْهِ مِنْ سُلْطَانِكَ اُبَّهَةً اَوْ مَخِیْلَةً، فَانْظُرْ اِلٰى عِظَمِ مُلْكِ اللّٰهِ فَوْقَكَ، وَقُدْرَتِهٖ مِنْكَ عَلٰى مَا لَا تَقْدِرُ عَلَیْهِ مِنْ نَفْسِكَ، فَاِنَّ ذٰلِكَ یُطَامِنُ اِلَیْكَ مِنْ طِمَاحِكَ، وَ یَكُفُّ عَنْكَ مِنْ غَرْبِكَ، وَ یَفِیْٓ‏ءُ اِلَیْكَ بِمَا عَزَبَ عَنْكَ مِنْ عَقْلِكَ.
کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں، لہٰذا میرے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہو نا چاہیے۔ کیونکہ یہ دل میں فساد پیدا کرنے، دین کو کمزور بنانے اور بربادیوں کو قریب لانے کا سبب ہے۔ اور کبھی حکومت کی وجہ سے تم میں تمکنت یا غرور پیدا ہو تو اپنے سے بالاتر اللہ کے ملک کی عظمت کو دیکھو، اور خیال کر و کہ وہ تم پروہ قدرت رکھتا ہے کہ جو خود تم اپنے آپ پر نہیں رکھتے۔ یہ چیز تمہاری رعونت و سرکشی کو دبا دے گی، اور تمہاری طغیانی کو روک دے گی، اور تمہاری کھوئی ہوئی عقل کو پلٹا دے گی۔
اِیَّاكَ وَ مُسَامَاةَ اللهِ فِیْ عَظَمَتِهٖ، وَ التَّشَبُّهَ بِهٖ فِیْ جَبَرُوْتِهٖ، فَاِنَّ اللهَ یُذِلُّ كُلَّ جَبَّارٍ، وَ یُهِیْنُ كُلَّ مُخْتَالٍ.
خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں نہ ٹکراؤ اور اس کی شانِ جبروت سے ملنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اللہ ہر جبار و سر کش کو نیچا دکھاتا ہے اور ہر مغرور کے سر کو جھکا دیتا ہے۔
اَنْصِفِ اللّٰهَ وَ اَنْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِكَ، وَ مِنْ خَاصَّةِ اَهْلِكَ، وَ مَنْ لَّكَ فِیْهِ هَوًى مِّنْ رَّعِیَّتِكَ، فَاِنَّكَ اِلَّا تَفْعَلْ تَظْلِمْ، وَ مَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللّٰهِ كَانَ اللّٰهُ خَصْمَهٗ دُوْنَ عِبَادِهٖ، وَ مَنْ خَاصَمَهُ اللّٰهُ اَدْحَضَ حُجَّتَهٗ وَ كَانَ لِلّٰهِ حَرْبًا، حَتّٰى یَنْزِعَ وَ یَتُوْبَ، وَ لَیْسَ شَیْ‏ءٌ اَدْعٰۤى اِلٰى تَغْیِیْرِ نِعْمَةِ اللّٰهِ وَ تَعْجِیْلِ نِقْمَتِهٖ مِنْ اِقَامَةٍ عَلٰى ظُلْمٍ، فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ دَعْوَةَ الْمُضْطَهَدِیْنَ وَ هُوَ لِلظّٰلِمِیْنَ بِالْمِرْصَادِ.
اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے، اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کی بجائے اللہ اس کا حریف و دشمن بن جاتا ہے، اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا، اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا، یہاں تک کے باز آئے اور توبہ کر لے۔ اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی اور اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی، کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے، کیونکہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کیلئے موقع کا منتظر رہتا ہے۔
وَ لْیَكُنْ اَحَبُّ الْاُمُورِ اِلَیْكَ اَوْسَطَهَا فِی الْحَقِّ، وَ اَعَمَّهَا فِی الْعَدْلِ، وَ اَجْمَعَهَا لِرِضَى الرَّعِیَّةِ، فَاِنَّ سُخْطَ الْعَامَّةِ یُجْحِفُ بِرِضَى الْخَاصَّةِ، وَ اِنَّ سُخْطَ الْخَاصَّةِ یُغْتَفَرُ مَعَ رِضَى الْعَامَّةِ.
تمہیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہیے جو حق کے اعتبار سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو، کیونکہ عوام کی ناراضگی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنا دیتی ہے، اور خواص کی ناراضگی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے نظر انداز کی جا سکتی ہے۔
وَ لَیْسَ اَحَدٌ مِّنَ الرَّعِیَّةِ اَثْقَلَ عَلَى الْوَالِیْ مَؤٗنَةً فِی الرَّخَآءِ، وَ اَقَلَّ مَعُوْنَةً لَّهٗ فِی الْبَلَآءِ، وَ اَكْرَهَ لِلْاِنْصَافِ، وَ اَسْئَلَ بِالْاِلْحَافِ، وَ اَقَلَّ شُكْرًا عِنْدَ الْاِعْطَآءِ، وَ اَبْطَاَ عُذْرًا عِنْدَ الْمَنْعِ، وَ اَضْعَفَ صَبْرًا عِنْدَ مُلِمَّاتِ الدَّهْرِ، مِنْ اَهْلِ الْخَاصَّةِ، وَ اِنَّمَا عِمَادُ الدِّیْنِ وَ جِمَاعُ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْعُدَّةُ لِلْاَعْدَآءِ، الْعَامَّةُ مِنَ الْاُمَّةِ، فَلْیَكُنْ صَغْوُكَ لَهُمْ وَ مَیْلُكَ مَعَهُمْ.
اور یہ یاد رکھو! کہ رعیت میں خواص سے زیادہ کوئی ایسا نہیں کہ جو خوشحالی کے وقت حاکم پر بوجھ بننے والا، مصیبت کے وقت امداد سے کترا جانے والا، انصاف پر ناک بھوں چڑھانے والا، طلب و سوال کے موقعہ پر پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جانے والا، عطا و بخشش پر کم شکر گزار ہونے والا، محروم کر دیئے جانے پر بمشکل عذر سننے والا اور زمانہ کی ابتلاؤں پر بے صبری دکھانے والا ہو۔ اور دین کا مضبوط سہارا، مسلمانوں کی قوت اور دشمن کے مقابلہ میں سامانِ دفاع یہی اُمت کے عوام ہوتے ہیں، لہٰذا تمہاری پوری توجہ اور تمہارا رخ انہی کی جانب ہونا چاہیے۔
وَ لْیَكُنْ اَبْعَدُ رَعِیَّتِكَ مِنْكَ وَ اَشْنَؤُهُمْ عِنْدَكَ اَطْلَبَهُمْ لِمَعَآئِبِ النَّاسِ، فَاِنَّ فِی النَّاسِ عُیُوْبًا، الْوَالِیْۤ اَحَقُّ مَنْ سَتَرَهَا، فَلَا تَكْشِفَنَّ عَمَّا غَابَ عَنْكَ مِنْهَا، فَاِنَّمَا عَلَیْكَ تَطْهِیْرُ مَا ظَهَرَ لَكَ، وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ عَلٰى مَا غَابَ عَنْكَ، فَاسْتُرِ الْعَوْرَةَ مَا اسْتَطَعْتَ، یَسْتُرِ اللّٰهُ مِنْكَ مَا تُحِبُّ سَتْرَهٗ‏ مِنْ رَّعِیَّتِكَ.
اور تمہاری رعایا میں تم سے سب سے زیادہ دور اور سب سے زیادہ تمہیں ناپسند وہ ہونا چاہیے جو لوگوں کی عیب جوئی میں زیادہ لگا رہتا ہو، کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں، حاکم کیلئے انتہائی شایان یہ ہے کہ ان پر پردہ ڈالے۔ لہٰذا جو عیب تمہاری نظروں سے اوجھل ہوں انہیں نہ اچھالنا، کیونکہ تمہارا کام انہی عیبوں کو مٹانا ہے کہ جو تمہارے اوپر ظاہر ہوں اور جو چھپے ڈھکے ہوں ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اس لئے جہاں تک بن پڑے عیبوں کو چھپاؤ، تاکہ اللہ بھی تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کرے جنہیں تم رعیت سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہو۔
اَطْلِقْ عَنِ النَّاسِ عُقْدَةَ كُلِّ حِقْدٍ، وَ اقْطَعْ عَنْكَ سَبَبَ كُلِّ وِتْرٍ، وَ تَغَابَ عَنْ كُلِّ مَا لَا یَضِحُ لَكَ، وَ لَا تَعْجَلَنَّ اِلٰى تَصْدِیْقِ سَاعٍ، فَاِنَّ السَّاعِیَ غَاشٌّ وَّ اِنْ تَشَبَّهَ بِالنّٰصِحِیْنَ.
لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کو کھول دو، اور دشمنی کی ہر رسی کاٹ دو، اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لئے مناسب نہیں بے خبر بن جاؤ، اور چغل خور کی جھٹ سے ہاں میں ہاں نہ ملاؤ۔ کیونکہ وہ فریب کار ہوتا ہے، اگرچہ خیر خواہوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
وَ لَا تُدْخِلَنَّ فِیْ مَشُوْرَتِكَ بَخِیْلًا یَّعْدِلُ بِكَ عَنِ الْفَضْلِ، وَ یَعِدُكَ الْفَقْرَ، وَ لَا جَبَانًا یُّضْعِفُكَ عَنِ الْاُمُوْرِ، وَ لَا حَرِیْصًا یُّزَیِّنُ لَكَ الشَّرَهَ بِالْجَوْرِ، فَاِنَّ الْبُخْلَ وَ الْجُبْنَ وَ الْحِرْصَ غَرَآئِزُ شَتّٰى یَجْمَعُهَا سُوْٓءُ الظَّنِّ بِاللّٰهِ.
اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شریک نہ کرنا کہ وہ تمہیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے روکے گا اور فقر و افلاس کا خطرہ دلائے گا، اور نہ کسی بزدل سے مہمات میں مشورہ لینا کہ وہ تمہاری ہمت پست کر دے گا، اور نہ کسی لالچی سے مشورہ کرنا کہ وہ ظلم کی راہ سے مال بٹورنے کو تمہاری نظروں میں سجا دے گا۔ یاد رکھو! کہ بخل، بزدلی اور حرص اگرچہ الگ الگ خصلتیں ہیں، مگر اللہ سے بد گمانی ان سب میں شریک ہے۔
اِنَّ شَرَّ وُزَرَآئِكَ مَنْ كَانَ لِلْاَشْرَارِ قَبْلَكَ وَزِیْرًا، وَ مَنْ شَرِكَهُمْ فِی الْاٰثَامِ، فَلَا یَكُوْنَنَّ لَكَ بِطَانَةً، فَاِنَّهُمْ اَعْوَانُ الْاَثَمَةِ وَ اِخْوَانُ الظَّلَمَةِ، وَ اَنْتَ وَاجِدٌ مِّنْهُمْ خَیْرَ الْخَلَفِ مِمَّنْ لَّهٗ مِثْلُ اٰرَآئِهِمْ وَ نَفَاذِهِمْ، وَ لَیْسَ عَلَیْهِ مِثْلُ اٰصَارِهِمْ وَ اَوْزَارِهِمْ، مِمَّنْ لَّمْ یُعَاوِنْ ظَالِمًا عَلٰى ظُلْمِهٖ وَ لَا اٰثِمًا عَلٰۤى اِثْمِهٖ، اُولٰٓئِكَ اَخَفُّ عَلَیْكَ مَؤٗنَةً، وَ اَحْسَنُ لَكَ مَعُوْنَةً، وَ اَحْنٰى‏ عَلَیْكَ عَطْفًا، وَ اَقَلُّ لِغَیْرِكَ اِلْفًا، فَاتَّخِذْ اُولٰٓئِكَ خَاصَّةً لِّخَلَوَاتِكَ وَ حَفَلَاتِكَ.
تمہارے لئے سب سے بد تر وزیر وہ ہو گا جو تم سے پہلے بدکرداروں کا وزیر اور گناہوں میں ان کا شریک رہ چکا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو تمہارے مخصوصین میں سے نہ ہونا چاہیے، کیونکہ وہ گنہگاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ تمہیں ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو تدبیر و رائے اور کارکردگی کے اعتبار سے ان کے مثل ہوں گے، مگر ان کی طرح گناہوں کی گرانباریوں میں دبے ہوئے نہ ہوں، جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گنہگار کا اس کے گناہ میں ہاتھ بٹایا ہو۔ ان کا بوجھ تم پر ہلکا ہو گا، اور یہ تمہارے بہترین معاون ثابت ہوں گے، اور تمہاری طرف محبت سے جھکنے والے ہوں گے، اور تمہارے علاوہ دوسروں سے ربط ضبط نہ رکھیں گے، انہی کو تم خلوت و جلوت میں اپنا مصاحب خاص ٹھہرانا۔
ثُمَّ لْیَكُنْ اٰثَرُهُمْ عِنْدَكَ اَقْوَلَهُمْ بِمُرِّ الْحَقِّ لَكَ، وَ اَقَلَّهُمْ مُسَاعَدَةً فِیْمَا یَكُوْنُ مِنْكَ مِمَّا كَرِهَ اللّٰهُ لِاَوْلِیَآئِهٖ، وَاقِعًا ذٰلِكَ مِنْ هَوَاكَ حَیْثُ وَقَعَ.
پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہیے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کر کہنے والے ہوں، اور ان چیزوں میں کہ جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کیلئے نا پسند کرتا ہے تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں، چاہے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔
وَ الْصَقْ بِاَهْلِ الْوَرَعِ وَ الصِّدْقِ، ثُمَّ رُضْهُمْ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُطْرُوْكَ، وَ لَا یُبَجِّحُوْكَ بِبَاطِلٍ لَمْ تَفْعَلْهُ، فَاِنَّ كَثْرَةَ الْاِطْرَآءِ تُحْدِثُ الزَّهْوَ، وَ تُدْنِیْ مِنَ الْعِزَّةِ.
پرہیز گاروں اور راست بازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا۔ پھر انہیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامہ کے بغیر تمہاری تعریف کر کے تمہیں خوش نہ کریں۔ کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کر دیتی ہے۔
وَ لَا یَكُوْنَنَّ الْمُحْسِنُ وَ الْمُسِیْٓ‏ءُ عِنْدَكَ بِمَنْزِلَةٍ سَوَآءٍ، فَاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ تَزْهِیْدًا لِّاَهْلِ الْاِحْسَانِ فِی الْاِحْسَانِ، وَ تَدْرِیْبًا لِّاَهْلِ الْاِسَآءَةِ عَلَى الْاِسَآءَةِ، وَ اَلْزِمْ كُلًّا مِّنْهُمْ مَاۤ اَلْزَمَ نَفْسَهٗ.
اور تمہارے نزدیک نیکو کار اور بدکردار دونوں برابر نہ ہوں۔ اس لئے کہ ایسا کرنے سے نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کو بدی پر آمادہ کرنا ہے۔ ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو جس کا وہ مستحق ہے۔
وَ اعْلَمْ اَنَّهٗ لَیْسَ شَیْ‏ءٌ بِاَدْعٰۤى اِلٰى حُسْنِ ظَنِّ رَاعٍۭ بِرَعِیَّتِهٖ، مِنْ اِحْسَانِهٖۤ اِلَیْهِمْ، وَ تَخْفِیْفِهِ‏ الْمَؤٗنَاتِ عَلَیْهِمْ، وَ تَرْكِ اسْتِكْرَاهِهٖۤ اِیَّاهُمْ عَلٰى مَا لَیْسَ لَہٗ قِبَلَهُمْ، فَلْیَكُنْ مِّنْكَ فِیْ ذٰلِكَ اَمْرٌ یَّجْتَمِعُ لَكَ بِهٖ حُسْنُ الظَّنِّ بِرَعِیَّتِكَ، فَاِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ یَقْطَعُ عَنْكَ نَصَبًا طَوِیْلًا، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ حَسُنَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ حَسُنَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ سَآءَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ سَآءَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ.
اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہیے جب کہ وہ ان سے حسن سلوک کرتا ہو، اور ان پر بوجھ نہ لادے، اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے جو اِن کے بس میں نہ ہوں۔ تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ اس حسنِ سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہو سکے، کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی الجھنوں کو ختم کر دے گا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو، اور سب سے زیادہ بے اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔
وَ لَا تَنْقُضْ سُنَّةً صَالِحَةً عَمِلَ بِهَا صُدُوْرُ هٰذِهِ الْاُمَّةِ، وَ اجْتَمَعَتْ بِهَا الْاُلْفَةُ، وَ صَلَحَتْ عَلَیْهَا الرَّعِیَّةُ، وَ لَا تُحْدِثَنَّ سُنَّةً تَضُرُّ بِشَیْ‏ءٍ مِّنْ مَّاضِیْ تِلْكَ السُّنَنِ، فَیَكُوْنَ الْاَجْرُ لِمَنْ سَنَّهَا، وَ الْوِزْرُ عَلَیْكَ بِمَا نَقَضْتَ مِنْهَا.
اور دیکھو! اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کر نا کہ جس پر اس اُمت کے بزرگ چلتے رہے ہیں، اور جس سے اتحاد و یکجہتی پیدا اور رعیت کی اصلاح ہوئی ہے، اور ایسے نئے طریقے ایجاد نہ کرنا کہ جو پہلے طریقوں کو کچھ ضرر پہنچائیں۔ اگر ایسا کیا تو نیک روش کے قائم کر جانے والوں کو ثواب تو ملتا رہے گا مگر انہیں ختم کردینے کا گناہ تمہاری گردن پر ہو گا۔
وَ اَكْثِرْ مُدَارَسَةَ الْعُلَمَآءِ وَ مُنَافَثَةَ الْحُكَمَآءِ، فِیْ تَثْبِیْتِ مَا صَلَحَ عَلَیْهِ اَمْرُ بِلَادِكَ، وَاِقَامَةِ مَا اسْتَقَامَ بِهِ النَّاسُ قَبْلَكَ.
اور اپنے شہروں کے اصلاحی امور کو مستحکم کرنے اور ان چیزوں کے قائم کرنے میں کہ جن سے اگلے لوگوں کے حالات مضبوط رہے تھے علماء و حکماء کے ساتھ باہمی مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا۔
وَ اعْلَمْ اَنَّ الرَّعِیَّةَ طَبَقَاتٌ لَّا یَصْلُحُ بَعْضُهَا اِلَّا بِبَعْضٍ، وَ لَا غِنٰى بِبَعْضِهَا عَنْۢ بَعْضٍ:
اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی سود و بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے:
فَمِنْهَا جُنُوْدُ اللّٰهِ، وَ مِنْهَا كُتَّابُ الْعَامَّةِ وَ الْخَاصَّةِ، وَ مِنْهَا قُضَاةُ الْعَدْلِ، وَ مِنْهَا عُمَّالُ الْاِنْصَافِ وَ الرِّفْقِ، وَ مِنْهَا اَهْلُ الْجِزْیَةِ وَ الْخَرَاجِ مِنْ اَهْلِ الذِّمَّةِ وَ مُسْلِمَةِ النَّاسِ، وَ مِنْهَا التُّجَّارُ وَ اَهْلُ الصِّنَاعَاتِ، وَ مِنْهَا الطَّبَقَةُ السُّفْلٰى مِنْ ذَوِی الْحَاجَةِ وَ الْمَسْكَنَةِ، وَ كُلًّا قَدْ سَمَّى اللّٰهُ سَهْمَهٗ، وَ وَضَعَ عَلٰى حَدِّهٖ فَرِیْضَتَهٗ فِیْ كِتَابِهٖ اَوْ سُنَّةِ نَبِیِّهٖ ﷺ، عَهْدًا مِّنْهُ عِنْدَنَا مَحْفُوْظًا.
ان میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو عمومی و خصوصی تحریروں کا کام انجام دیتا ہے۔ تیسرا انصاف کرنے والے قضاۃ کا ہے۔ چو تھا حکومت کے وہ عمال جن سے امن اور انصاف قائم ہوتا ہے۔ پانچواں خراج دینے والے مسلمان اور جزیہ دینے والے ذمیوں کا۔ چھٹا تجارت پیشہ و اہل حرفہ کا۔ ساتواں فقرا و مساکین کا وہ طبقہ ہے کہ جو سب سے پست ہے۔ اور اللہ نے ہر ایک کا حق معین کر دیا ہے اور اپنی کتاب یا سنت نبویؐ میں اس کی حد بندی کر دی اور وہ (مکمل) دستور ہمارے پاس محفوظ ہے۔
فَالْجُنُوْدُ بِاِذْنِ اللّٰهِ حُصُوْنُ الرَّعِیَّةِ، وَ زَیْنُ الْوُلَاةِ، وَ عِزُّ الدِّیْنِ، وَ سُبُلُ الْاَمْنِ، وَ لَیْسَ تَقُوْمُ الرَّعِیَّةُ اِلَّا بِهِمْ.
(پہلا طبقہ) فوجی دستے، یہ بحکم خدا رعیت کی حفاظت کا قلعہ، فرمانرواؤں کی زینت، دین و مذہب کی قوت اور امن کی راہ ہیں۔ رعیت کا نظم و نسق انہی سے قائم رہ سکتا ہے۔
ثُمَّ لَا قِوَامَ لِلْجُنُوْدِ اِلَّا بِمَا یُخْرِجُ اللّٰهُ لَهُمْ مِنَ الْخَرَاجِ الَّذِیْ یَقْوَوْنَ بِهٖ فِیْ جِهَادِ عَدُوِّهِمْ، وَ یَعْتَمِدُوْنَ عَلَیْهِ فِیْمَا یُصْلِحُهُمْ، وَ یَكُوْنُ مِنْ وَّرَآءِ حَاجَتِهِمْ.
اور فوج کی زندگی کا سہارا وہ خراج ہے جو اللہ نے اس کیلئے معین کیا ہے کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے اور اپنی حالت کو درست بناتے اور ضروریات کو بہم پہنچاتے ہیں۔
ثُمَّ لَا قِوَامَ لِهٰذَیْنِ الصِّنْفَیْنِ اِلَّا بِالصِّنْفِ الثَّالِثِ مِنَ الْقُضَاةِ وَ الْعُمَّالِ وَ الْكُتَّابِ، لِمَا یُحْكِمُوْنَ مِنَ الْمَعَاقِدِ، وَ یَجْمَعُوْنَ مِنَ الْمَنَافِعِ، وَ یُؤْتَمَنُوْنَ عَلَیْهِ مِنْ خَوَاصِّ الْاُمُوْرِ وَ عَوَامِّهَا.
پھر ان دونوں طبقوں کے نظم و بقا کیلئے تیسرے طبقے کی ضرورت ہے کہ جو قضاۃ، عمال اور منشیانِ دفاتر کا ہے کہ جن کے ذریعے باہمی معاہدوں کی مضبوطی اور خراج اور دیگر منافع کی جمع آوری ہوتی ہے اور معمولی اور غیر معمولی معاملوں میں ان کے ذریعہ وثوق و اطمینان حاصل کیا جاتا ہے۔
وَ لَا قِوَامَ لَهُمْ جَمِیْعًا اِلَّا بِالتُّجَّارِ وَ ذَوِی الصِّنَاعَاتِ، فِیْمَا یَجْتَمِعُوْنَ عَلَیْهِ مِنْ مَّرَافِقِهِمْ، وَ یُقِیْمُوْنَهٗ مِنْ اَسْوَاقِهِمْ،‏ وَ یَكْفُوْنَهُمْ مِنَ التَّرَفُّقِ بِاَیْدِیْهِمْ مَا لَا یَبْلُغُهٗ رِفْقُ غَیْرِهِمْ.
اور سب کا دار و مدار سوداگروں اور صنّاعوں پر ہے کہ وہ ان کی ضروریات کو فراہم کرتے ہیں، بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے ان کی ضروریات کو مہیا کر کے انہیں خود مہیا کرنے سے آسودہ کر دیتے ہیں۔
ثُمَّ الطَّبَقَةُ السُّفْلٰى مِنْ اَهْلِ الْحَاجَةِ وَ الْمَسْكَنَةِ الَّذِیْنَ یَحِقُّ رِفْدُهُمْ وَ مَعُوْنَتُهُمْ.
اس کے بعد پھر فقیروں اور ناداروں کا طبقہ ہے جن کی اعانت و دستگیری ضروری ہے۔
وَ فِی اللّٰهِ لِكُلٍّ سَعَةٌ، وَ لِكُلٍّ عَلَى الْوَالِیْ حَقٌّۢ بِقَدْرِ مَا یُصْلِحُهٗ، وَ لَیْسَ یَخْرُجُ الْوَالِیْ مِنْ حَقِیْقَةِ مَاۤ اَلْزَمَهُ اللّٰهُ مِنْ ذٰلِكَ اِلَّا بِالِاهْتِمَامِ وَ الِاسْتِعَانَةِ بِاللّٰهِ، وَ تَوْطِیْنِ نَفْسِهٖ عَلٰى لُزُوْمِ الْحَقِّ، وَ الصَّبْرِ عَلَیْهِ فِیْمَا خَفَّ عَلَیْهِ اَوْ ثَقُلَ.
اللہ نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کر رکھی ہیں اور ہر طبقے کا حاکم پر حق قائم ہے کہ وہ ان کیلئے اتنا مہیا کرے جو ان کی حالت درست کر سکے اور حاکم خدا کے ان تمام ضروری حقوق سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا مگر اسی صورت میں کہ پوری طرح کوشش کرے، اور اللہ سے مدد مانگے اور اپنے کو حق پر ثابت و بر قرار رکھے، اور چاہے اس کی طبیعت پر آسان ہو یا دشوار، بہرحال اس کو برداشت کرے۔
فَوَلِّ مِنْ جُنُوْدِكَ اَنْصَحَهُمْ فِیْ نَفْسِكَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِاِمَامِكَ، وَ اَنْقَاهُمْ جَیْبًا، وَ اَفْضَلَهُمْ حِلْمًا مِمَّنْ یُّبْطِئُ عَنِ الْغَضَبِ، وَ یَسْتَرِیْحُ اِلَى الْعُذْرِ، وَ یَرْاَفُ بِالضُّعَفَآءِ، وَ یَنْۢبُوْ عَلَى الْاَقْوِیَآءِ، وَ مِمَّنْ لَّا یُثِیْرُهُ الْعُنْفُ، وَ لَا یَقْعُدُ بِهِ الضَّعْفُ.
فوج کا سردار اس کو بنانا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول ﷺ کا اور تمہارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو، سب سے زیادہ پاک دامن ہو، اور بردباری میں نمایاں ہو، جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو، عذر معذرت پر مطمئن ہو جاتا ہو، کمزوروں پر رحم کھاتا ہو، اور طاقتوروں کے سامنے اکڑ جاتا ہو، نہ بدخوئی اسے جوش میں لے آتی ہو، اور نہ پست ہمتی اسے بٹھا دیتی ہو۔
ثُمَّ اَلْصِقْ بِذَوِی الْاَحْسَابِ وَ اَهْلِ الْبُیُوْتَاتِ الصَّالِحَةِ، وَ السَّوَابِقِ الْحَسَنَةِ، ثُمَّ اَهْلِ النَّجْدَةِ وَ الشَّجَاعَةِ وَ السَّخَآءِ وَ السَّمَاحَةِ، فَاِنَّهُمْ جِمَاعٌ مِّنَ الْكَرَمِ، وَ شُعَبٌ مِّنَ الْعُرْفِ.
پھر ایسا ہو نا چاہیے کہ تم بلند خاندان، نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جود و سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط ضبط بڑھاؤ، کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔
ثُمَّ تَفَقَّدْ مِنْ اُمُوْرِهِمْ مَا یَتَفَقَّدُهُ الْوَالِدَانِ‏ مِنْ وَّلَدِهِمَا، وَ لَا یَتَفَاقَمَنَّ فِیْ نَفْسِكَ شَیْ‏ءٌ قَوَّیْتَهُمْ بِهٖ، وَ لَا تَحْقِرَنَّ لُطْفًا تَعَاهَدْتَهُمْ بِهٖ وَ اِنْ قَلَّ، فَاِنَّهٗ دَاعِیَةٌ لَّهُمْ اِلٰى بَذْلِ النَّصِیْحَةِ لَكَ، وَ حُسْنِ الظَّنِّ بِكَ.
پھر ان کے حالات کی اس طرح دیکھ بھال کرنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرو کہ جو ان کی تقویت کا سبب ہو تو اسے بڑا نہ سمجھنا، اور اپنے کسی معمولی سلوک کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا (کہ اسے چھوڑ بیٹھو)، کیونکہ اس حسنِ سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جذبہ ابھر آئے گا اور حسنِ اعتماد میں اضافہ ہو گا۔
وَ لَا تَدَعْ تَفَقُّدَ لَطِیْفِ اُمُوْرِهِمُ اتِّكَالًا عَلٰى جَسِیْمِهَا، فَاِنَّ لِلْیَسِیْرِ مِنْ لُّطْفِكَ مَوْضِعًا یَّنْتَفِعُوْنَ بِهٖ، وَ لِلْجَسِیْمِ مَوْقِعًا لَّا یَسْتَغْنُوْنَ عَنْهُ.
اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کر دیا ہے کہیں ان کی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بند نہ کر لینا۔ کیونکہ یہ چھوٹی قسم کی مہربانی کی بات بھی اپنی جگہ فائدہ بخش ہوتی ہے اور وہ بڑی ضرورتیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں۔
وَ لْیَكُنْ اٰثَرُ رُءُوْسِ جُنْدِكَ عِنْدَكَ مَنْ وَّاسَاهُمْ فِیْ مَعُوْنَتِهٖ، وَ اَفْضَلَ عَلَیْهِمْ مِنْ جِدَتِهٖ، بِمَا یَسَعُهُمْ وَ یَسَعُ مَنْ وَّرَآءَهُمْ مِنْ خُلُوْفِ اَهْلِیْهِمْ، حَتّٰى یَكُوْنَ هَمُّهُمْ هَمًّا وَّاحِدًا فِیْ جِهَادِ الْعَدُوِّ، فَاِنَّ عَطْفَكَ عَلَیْهِمْ یَعْطِفُ قُلُوْبَهُمْ عَلَیْكَ.
اور فوجی سرداروں میں تمہارے یہاں وہ بلند منزلت سمجھا جائے جو فوجیوں کی اعانت میں برابر کا حصہ لیتا ہو، اور اپنے روپے پیسے سے اتنا سلوک کرتا ہو کہ جس سے ان کا اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بال بچوں کا بخوبی گزارا ہو سکتا ہو، تاکہ وہ ساری فکروں سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ دشمن سے جہاد کریں۔ اس لئے کہ فوجی سرداروں کے ساتھ تمہارا مہربانی سے پیش آنا، ان کے دلوں کو تمہاری طرف موڑ دے گا۔
وَ اِنَّ اَفْضَلَ قُرَّةِ عَیْنِ الْوُلَاةِ اسْتِقَامَةُ الْعَدْلِ فِی الْبِلَادِ، وَ ظُهُوْرُ مَوَدَّةِ الرَّعِیَّةِ، وَ اِنَّهٗ لَا تَظْهَرُ مَوَدَّتُهُمْ اِلَّا بِسَلَامَةِ صُدُوْرِهِمْ، وَ لَا تَصِحُّ نَصِیْحَتُهُمْ اِلَّا بِحِیْطَتِهِمْ عَلٰى وُلَاةِ اُمُوْرِهِمْ، وَ قِلَّةِ اسْتِثْقَالِ دُوَلِهِمْ، وَ تَرْكِ اسْتِبْطَآءِ انْقِطَاعِ مُدَّتِهِمْ، فَافْسَحْ فِیْۤ اٰمَالِهِمْ، وَ وَاصِلْ فِیْ حُسْنِ الثَّنَآءِ عَلَیْهِمْ، وَ تَعْدِیْدِ مَاۤ اَبْلٰى ذَوُو الْبَلَآءِ مِنْهُمْ، فَاِنَّ كَثْرَةَ الذِّكْرِ لِحُسْنِ اَفْعَالِهِمْ تَهُزُّ الشُّجَاعَ، وَ تُحَرِّضُ النَّاكِلَ، اِنْ شَآءَ اللّٰهُ.
حکمرانوں کیلئے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل و انصاف برقرار رہے، اور رعایا کی محبت ظاہر ہوتی رہے، اور ان کی محبت اسی وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو، اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کیلئے گھیرا ڈالے رہیں، ان کا اقتدار سر پڑا بوجھ نہ سمجھیں اور نہ ان کی حکومت کے خاتمہ کیلئے گھڑیاں گنیں۔ لہٰذا ان کی امیدوں میں وسعت و کشائش رکھنا، انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان کے اچھے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا۔ اس لئے کہ ان کے اچھے کارناموں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے۔ ان شاء اللہ!
ثُمَّ اعْرِفْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَاۤ اَبْلٰى وَ لَا تُضِیْفَنَّ بَلَآءَ امْرِئٍ اِلٰى غَیْرِهٖ، وَ لَا تُقَصِّرَنَّ بِهٖ دُوْنَ غَایَةِ بَلَآئِهٖ، وَ لَا یَدْعُوَنَّكَ شَرَفُ امْرِئٍ اِلٰۤى اَنْ تُعْظِمَ مِنْۢ بَلَآئِهٖ مَا كَانَ صَغِیْرًا، وَ لَا ضَعَةُ امْرِئٍ اِلٰۤى اَنْ تَسْتَصْغِرَ مِنْۢ بَلَآئِهٖ مَا كَانَ عَظِیْمًا.
جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا، اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کر دینا، اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا، اور کبھی ایسا نہ کرنا کہ کسی شخص کی بلندی و رفعت کی وجہ سے اس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو، اور کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کی وجہ سے معمولی قرار دے لو۔
وَ ارْدُدْ اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ مَا یُضْلِعُكَ مِنَ الْخُطُوْبِ، وَ یَشْتَبِهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاُمُوْرِ، فَقَدْ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى لِقَوْمٍ اَحَبَّ اِرْشَادَهُمْ: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ﴾، فَالرَّدُّ اِلَى اللّٰهِ الْاَخْذُ بِمُحْكَمِ كِتَابِهٖ، وَ الرَّدُّ اِلَى الرَّسُوْلِ الْاَخْذُ بِسُنَّتِهِ الْجَامِعَةِ غَیْرِ الْمُفَرِّقَةِ.
جب ایسی مشکلیں تمہیں پیش آئیں کہ جن کا حل نہ ہوسکے اور ایسے معاملات کہ جو مشتبہ ہو جائیں تو ان میں اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو، کیونکہ خدا نے جن لوگوں کو ہدایت کرنا چاہی ہے ان کیلئے فرمایا ہے: ’’اے ایمان دارو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولؐ کی اور ان کی جو تم میں سے صاحبان امر ہوں، اور اگر تم میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو‘‘، تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کتاب کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اور رسول ﷺکی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے ان متفق علیہ ارشادات پر عمل کیا جائے جن میں کوئی اختلاف نہیں۔
ثُمَّ اخْتَرْ لِلْحُكْمِ بَیْنَ النَّاسِ اَفْضَلَ رَعِیَّتِكَ فِیْ نَفْسِكَ، مِمَّنْ لَّا تَضِیْقُ بِهِ الْاُمُوْرُ، وَ لَا تَمْحَكُهُ الْخُصُوْمُ، وَ لَا یَتَمَادٰى فِی الزَّلَّةِ، وَ لَا یَحْصَرُ مِنَ الْفَیْ‏ءِ اِلَى الْحَقِّ اِذَا عَرَفَهٗ، وَ لَا تُشْرِفُ نَفْسُهٗ عَلٰى طَمَعٍ، وَ لَا یَكْتَفِیْ بِاَدْنٰى فَهْمٍ دُوْنَ اَقْصَاهُ، وَ اَوْقَفَهُمْ فِی الشُّبُهَاتِ، وَ اٰخَذَهُمْ بِالْحُجَجِ، وَ اَقَلَّهُمْ تَبَرُّمًۢا بِمُرَاجَعَةِ الْخَصْمِ، وَ اَصْبَرَهُمْ عَلٰى تَكَشُّفِ الْاُمُوْرِ، وَ اَصْرَمَهُمْ عِنْدَ اتِّضَاحِ الْحُكْمِ، مِمَّنْ لَّا یَزْدَهِیْهِ اِطْرَآءٌ، وَ لَا یَسْتَمِیْلُهٗۤ اِغْرَآءٌ، وَ اُوْلٰٓئِكَ قَلِیْلٌ.
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کیلئے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق میں نہ پڑ جاتا ہو، اور نہ جھگڑنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو، نہ اپنے کسی غلط نقطۂ نظر پر اَڑتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو اور نہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو، شک و شبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو، اور دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین کی بحثا بحثی سے اکتا نہ جاتا ہو، معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو، اور جب حقیقت آئینہ ہو جاتی ہو تو بے دھڑک فیصلہ کر دیتا ہو۔ وہ ایسا ہو جسے سراہنا مغرور نہ بنائے اور تاننا جنبہ داری پر آمادہ نہ کر دے۔ اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں۔
ثُمَّ اَكْثِرْ تَعَاهُدَ قَضَآئِهٖ‏ وَ افْسَحْ لَهٗ فِی الْبَذْلِ مَا یُزِیْلُ عِلَّتَهٗ، وَ تَقِلُّ مَعَهٗ حَاجَتُهٗ اِلَى النَّاسِ، وَ اَعْطِهٖ مِنَ الْمَنْزِلَةِ لَدَیْكَ مَا لَا یَطْمَعُ فِیْهِ غَیْرُهٗ مِنْ خَاصَّتِكَ، لِیَاْمَنَ بِذٰلِكَ اغْتِیَالَ الرِّجَالِ لَهٗ عِنْدَكَ، فَانْظُرْ فِیْ ذٰلِكَ نَظَرًۢا بَلِیْغًا، فَاِنَّ هٰذَا الدِّیْنَ قَدْ كَانَ اَسِیْرًا فِیْۤ اَیْدِی الْاَشْرَارِ، یُعْمَلُ فِیْهِ بِالْهَوٰى وَ تُطْلَبُ بِهِ الدُّنْیَا.
پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا، دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جوان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے۔ اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔ اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا۔ کیونکہ (اس سے پہلے) یہ دین بدکرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے، جس میں نفسانی خواہشوں کی کار فرمائی تھی اور اسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا تھا۔
ثُمَّ انْظُرْ فِیْ اُمُوْرِ عُمَّالِكَ، فَاسْتَعْمِلْهُمُ اخْتِبَارًا، وَ لَا تُوَلِّهِمْ مُحَابَاةً وَّ اَثَرَةً، فَاِنَّهُمَا جِمَاعٌ مِّنْ شُعَبِ الْجَوْرِ وَ الْخِیَانَةِ.
پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا، ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا، کبھی صرف رعایت اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا۔ اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں۔
وَ تَوَخَّ مِنْهُمْ اَهْلَ التَّجْرِبَةِ وَ الْحَیَآءِ، مِنْ اَهْلِ الْبُیُوْتَاتِ الصَّالِحَةِ وَ الْقَدَمِ فِی الْاِسْلَامِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فَاِنَّهُمْ اَكْرَمُ اَخْلَاقًا، وَ اَصَحُّ اَعْرَاضًا، وَ اَقَلُّ فِی الْمَطَامِعِ اِشْرَافًا، وَ اَبْلَغُ فِیْ عَوَاقِبِ الْاُمُوْرِ نَظَرًا.
اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ و غیرت مند ہوں، ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں، حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔
ثُمَّ اَسْبِـغْ عَلَیْهِمُ الْاَرْزَاقَ، فَاِنَّ ذٰلِكَ قُوَّةٌ لَّهُمْ عَلَى اسْتِصْلَاحِ اَنْفُسِهِمْ، وَ غِنًى لَّهُمْ عَنْ تَنَاوُلِ‏ مَا تَحْتَ اَیْدِیْهِمْ، وَ حُجَّةٌ عَلَیْهِمْ اِنْ خَالَفُوْۤا اَمْرَكَ، اَوْ ثَلَمُوْۤا اَمَانَتَكَ.
پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا، کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی، اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان ہاتھوں میں بطور امانت ہو گا۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں تو تمہاری حجت ان پرقائم ہو گی۔
ثُمَّ تَفَقَّدْ اَعْمَالَهُمْ وَ ابْعَثِ الْعُیُوْنَ مِنْ اَهْلِ الصِّدْقِ وَ الْوَفَآءِ عَلَیْهِمْ، فَاِنَّ تَعَاهُدَكَ فِی السِّرِّ لِاُمُوْرِهِمْ حَدْوَةٌ لَّهُمْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الْاَمَانَةِ، وَ الرِّفْقِ بِالرَّعِیَّةِ.
پھر ان کے کاموں کو دیکھتے بھالتے رہنا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر چھوڑ دینا، کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا باعث ہو گی۔
وَ تَحَفَّظْ مِنَ الْاَعْوَانِ، فَاِنْ اَحَدٌ مِّنْهُمْ بَسَطَ یَدَهٗ اِلٰى خِیَانَةٍ، اجْتَمَعَتْ بِهَا عَلَیْهِ عِنْدَكَ اَخْبَارُ عُیُوْنِكَ، اكْتَفَیْتَ بِذٰلِكَ شَاهِدًا، فَبَسَطْتَّ عَلَیْهِ الْعُقُوْبَةَ فِیْ بَدَنِهٖ، وَ اَخَذْتَهٗ بِمَاۤ اَصَابَ مِنْ عَمَلِهٖ، ثُمَّ نَصَبْتَهٗ بِمَقَامِ الْمَذَلَّةِ، وَ وَسَمْتَهٗ بِالْخِیَانَةِ، وَ قَلَّدْتَّهٗ عَارَ التُّهَمَةِ.
خائن مدد گاروں سے اپنا بچاؤ کرتے رہنا۔ اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں تو شہادت کیلئے بس اسے کافی سمجھنا، اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے اسے واپس لینا، اور اسے ذلت کی منزل پر کھڑا کر دینا، اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانا، اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔
وَ تَفَقَّدْ اَمْرَ الْخَرَاجِ بِمَا یُصْلِحُ اَهْلَهٗ، فَاِنَّ فِیْ صَلَاحِهٖ وَ صَلَاحِهِمْ صَلَاحًا لِّمَنْ سِوَاهُمْ، وَ لَا صَلَاحَ لِمَنْ سِوَاهُمْ اِلَّا بِهِمْ، لِاَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ عِیَالٌ عَلَى الْخَرَاجِ وَ اَهْلِهٖ.
مال گزاری کے معاملہ میں مال گزاری ادا کرنے والوں کا مفاد پیش نظر رکھنا، کیونکہ باج اور باج گزاروں کی بدولت ہی دوسروں کے حالات درست کئے جا سکتے ہیں۔ سب اسی خراج اور خراج دینے والوں کے سہارے پر جیتے ہیں۔
وَ لْیَكُنْ نَّظَرُكَ فِیْ عِمَارَةِ الْاَرْضِ اَبْلَغَ مِنْ نَّظَرِكَ فِی اسْتِجْلَابِ الْخَرَاجِ، لِاَنَّ ذٰلِكَ لَا یُدْرَكُ اِلَّا بِالْعِمَارَةِ، وَ مَنْ طَلَبَ الْخَرَاجَ بِغَیْرِ عِمَارَةٍ اَخْرَبَ الْبِلَادَ، وَ اَهْلَكَ الْعِبَادَ، وَ لَمْ یَسْتَقِمْ اَمْرُهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا.
اور خراج کی جمع آوری سے زیادہ زمین کی آبادی کا خیال رکھنا، کیونکہ خراج بھی تو زمین کی آبادی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، اور جو آباد کئے بغیر خراج چاہتا ہے وہ ملک کی بربادی اور بندگانِ خدا کی تباہی کا سامان کرتا ہے، اور اس کی حکومت تھوڑے دنوں سے زیادہ نہیں رہ سکتی۔
فَاِنْ شَكَوْا ثِقَلًا اَوْ عِلَّةً، اَوِ انْقِطَاعَ شِرْبٍ اَوْ بَالَّةٍ، اَوْ اِحَالَةَ اَرْضٍ اغْتَمَرَهَا غَرَقٌ، اَوْ اَجْحَفَ بِهَا عَطَشٌ، خَفَّفْتَ عَنْهُمْ بِمَا تَرْجُوْ اَنْ یَّصْلُحَ بِهٖۤ اَمْرُهُمْ، وَ لَا یَثْقُلَنَّ عَلَیْكَ شَیْ‏ءٌ خَفَّفْتَ بِهِ الْمَؤٗنَةَ عَنْهُمْ، فَاِنَّهٗ ذُخْرٌ یَّعُوْدُوْنَ بِهٖ عَلَیْكَ فِیْ عِمَارَةِ بِلَادِكَ، وَ تَزْیِیْنِ وِلَایَتِكَ، مَعَ اسْتِجْلَابِكَ حُسْنَ ثَنَآئِهِمْ، وَ تَبَجُّحِكَ بِاسْتِفَاضَةِ الْعَدْلِ فِیْهِمْ، مُعْتَمِدًا فَضْلَ قُوَّتِهِمْ بِمَا ذَخَرْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ اِجْمَامِكَ لَهُمْ، وَ الثِّقَةَ مِنْهُمْ بِمَا عَوَّدْتَّهُمْ مِنْ عَدْلِكَ عَلَیْهِمْ فِیْ رِفْقِكَ بِهِمْ، فَرُبَّمَا حَدَثَ مِنَ الْاُمُوْرِ مَاۤ اِذَا عَوَّلْتَ فِیْهِ عَلَیْهِمْ مِنْۢ بَعْدُ، احْتَمَلُوْهُ طِیْبَةَ اَنْفُسِهِمْ بِهٖ، فَاِنَّ الْعُمْرَانَ مُحْتَمِلٌ مَّا حَمَّلْتَهٗ، وَ اِنَّمَا یُؤْتٰى خَرَابُ الْاَرْضِ مِنْ اِعْوَازِ اَهْلِهَا، وَ اِنَّمَا یُعْوِزُ اَهْلُهَا لِاِشْرَافِ اَنْفُسِ الْوُلَاةِ عَلَى الْجَمْعِ، وَ سُوْٓءِ ظَنِّهِمْ بِالْبَقَآءِ، وَ قِلَّةِ انْتِفَاعِهِمْ بِالْعِبَرِ.
اب اگر وہ خراج کی گرانباری، یا کسی آفت ِناگہانی، یا نہری و بارانی علاقوں میں ذرائع آبپاشی کے ختم ہونے، یا زمین کے سیلاب میں گھر جانے، یا سیرابی نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ ہونے کی، شکایت کریں تو خراج میں اتنی کمی کر دو جس سے تمہیں ان کے حالات کے سُدھرنے کی توقع ہو، اور ان کے بوجھ کو ہلکا کرنے سے تمہیں گرانی نہ محسوس ہو، کیونکہ انہیں زیر باری سے بچانا ایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جو تمہارے ملک کی آبادی اور تمہارے قلمروِ حکومت کی زیب و زینت کی صورت میں تمہیں پلٹا دیں گے، اور اس کے ساتھ تم ان سے خراجِ تحسین اور عدل قائم کرنے کی وجہ سے مسرت بے پایاں بھی حاصل کر سکو گے، اور اپنے اس حسن سلوک کی وجہ سے کہ جس کا ذخیرہ تم نے ان کے پاس رکھ دیا ہے ،تم (آڑے وقت پر) ان کی قوت کے بل بوتے پر بھروسا کر سکو گے، اور رحم و رافت کے جلو میں جس سیرتِ عادلانہ کا تم نے انہیں خو گر بنایا ہے اس کے سبب سے تمہیں ان پر وثوق و اعتماد ہوسکے گا۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے حالات بھی پیش آئیں کہ جن میں تمہیں ان پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہو تو وہ انہیں بطیب خاطر جھیل لے جائیں گے، کیونکہ ملک آباد ہے تو جیسا بوجھ اس پر لا دو گے وہ اٹھا لے گا۔ اور زمین کی تباہی تو اس سے آتی ہے کہ کاشتکاروں کے ہاتھ تنگ ہو جائیں اور ان کی تنگدستی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ حکام مال و دولت کے سمیٹنے پر تل جاتے ہیں اور انہیں اپنے اقتدار کے ختم ہونے کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور عبرتوں سے بہت کم فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں۔
ثُمَّ انْظُرْ فِیْ حَالِ كُتَّابِكَ، فَوَلِّ عَلٰۤى اُمُوْرِكَ خَیْرَهُمْ، وَ اخْصُصْ رَسَآئِلَكَ الَّتِیْ تُدْخِلُ فِیْهَا مَكَآئِدَكَ وَ اَسْرَارَكَ بِاَجْمَعِهِمْ لِوُجُوْهِ صَالِحِ الْاَخْلَاقِ مِمَّنْ لَّا تُبْطِرُهُ الْكَرَامَةُ، فَیَجْتَرِئَ بِهَا عَلَیْكَ فِیْ خِلَافٍ لَّكَ بِحَضْرَةِ مَلَاٍ، وَ لَا تُقَصِّرُ بِهِ الْغَفْلَةُ عَنْ اِیْرَادِ مُكَاتَبَاتِ عُمَّالِكَ عَلَیْكَ، وَ اِصْدَارِ جَوَابَاتِهَا عَلَى الصَّوَابِ عَنْكَ، وَ فِیْمَا یَاْخُذُ لَكَ وَ یُعْطِیْ مِنْكَ، وَ لَا یُضْعِفُ عَقْدًا اعْتَقَدَهٗ لَكَ، وَ لَا یَعْجِزُ عَنْ اِطْلَاقِ مَا عُقِدَ عَلَیْكَ، وَ لَا یَجْهَلُ مَبْلَغَ قَدْرِ نَفْسِهٖ فِی الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ الْجَاهِلَ بِقَدْرِ نَفْسِهٖ یَكُوْنُ بِقَدْرِ غَیْرِهٖ اَجْهَلَ.
پھر یہ کہ اپنے منشیانِ دفاتر کی اہمیت پر نظر رکھنا، اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو اِن میں بہتر ہوں، اور اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر اور (مملکت کے) رموز و اسرار درج ہوتے ہیں، خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں، جنہیں اعزاز کا حاصل ہو نا سرکش نہ بنائے کہ وہ بھری محفلوں میں تمہارے خلاف کچھ کہنے کی جرأت کرنے لگیں، اور ایسے بے پروا نہ ہوں کہ لین دین کے معاملات کے بارے میں جو تم سے متعلق ہوں تمہارے کارندوں کے خطوط تمہارے سامنے پیش کرنے اور ان کے مناسب جوابات روانہ کرنے میں کوتاہی کرتے ہوں، اور وہ تمہارے حق میں جو معاہدہ کریں اس میں کوئی خامی نہ رہنے دیں، اور نہ تمہارے خلاف کسی ساز باز کا توڑ کرنے میں کمزوری دکھائیں، اور وہ معاملات میں اپنے صحیح مرتبہ اور مقام سے ناآشنا نہ ہوں، کیونکہ جو اپنا صحیح مقام نہیں پہچانتا وہ دوسروں کے قدر و مقام سے اور بھی زیادہ ناواقف ہو گا۔
ثُمَّ لَا یَكُنِ اخْتِیَارُكَ اِیَّاهُمْ عَلٰى فِرَاسَتِكَ وَ اسْتِنَامَتِكَ، وَ حُسْنِ الظَّنِّ مِنْكَ، فَاِنَّ الرِّجَالَ يَتَعَرَّفُوْنَ لِفِرَاسَاتِ‏ الْوُلَاةِ بِتَصَنُّعِهِمْ وَ حُسْنِ خِدْمَتِهِمْ، وَ لَیْسَ وَرَآءَ ذٰلِكَ مِنَ النَّصِیْحَةِ وَ الْاَمَانَةِ شَیْ‏ءٌ، وَ لٰكِنِ اخْتَبِرْهُمْ بِمَا وَلُوْا لِلصّٰلِحِیْنَ قَبْلَكَ، فَاعْمِدْ لِاَحْسَنِهِمْ كَانَ فِی الْعَامَّةِ اَثَرًا، وَ اَعْرَفِهِمْ بِالْاَمَانَةِ وَجْهًا، فَاِنَّ ذٰلِكَ دَلِیْلٌ عَلٰى نَصِیْحَتِكَ لِلّٰهِ وَ لِمَنْ وُّلِّیْتَ اَمْرَهٗ.
پھر یہ کہ ان کا انتخاب تمہیں اپنی فراست، خوش اعتمادی اور حسن ظن کی بنا پر نہ کرنا چاہیے، کیونکہ لوگ تصنع اور حسن خدمات کے ذریعہ حکمرانوں کی نظروں میں سما کر تعارف کی راہیں نکال لیا کرتے ہیں، حالانکہ ان میں ذرا بھی خیر خواہی اور امانتداری کا جذبہ نہیں ہو تا۔ لیکن تم انہیں ان خدمات سے پرکھو جو تم سے پہلے وہ نیک حاکموں کے ماتحت رہ کر انجام دے چکے ہوں، تو جو عوام میں نیک نام اور امانتداری کے اعتبار سے زیادہ مشہور ہوں ان کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ کرو۔ اس لئے کہ ایسا کرنا اس کی دلیل ہو گا کہ تم اللہ کے مخلص اور اپنے امام کے خیر خواہ ہو۔
وَ اجْعَلْ لِرَاْسِ كُلِّ اَمْرٍ مِّنْ اُمُوْرِكَ رَاْسًا مِّنْهُمْ، لَا یَقْهَرُهٗ كَبِیْرُهَا، وَ لَا یَتَشَتَّتُ عَلَیْهِ كَثِیْرُهَا، وَ مَهْمَا كَانَ فِیْ كُتَّابِكَ مِنْ عَیْبٍ فَتَغَابَیْتَ عَنْهُ اُلْزِمْتَهٗ.
تمہیں محکمہ تحریر کے ہر شعبہ پر ایک ایک افسر مقرر کرنا چاہیے جو اس شعبہ کے بڑے سے بڑے کام سے عاجز نہ ہو اور کام کی زیادتی سے بوکھلا نہ اٹھے۔یاد رکھو! کہ ان منشیوں میں جو بھی عیب ہو گا اور تم اس سے آنکھ بند رکھو گے اس کی ذمہ داری تم پر ہو گی۔
ثُمَّ اسْتَوْصِ بِالتُّجَّارِ وَ ذَوِی الصِّنَاعَاتِ، وَ اَوْصِ بِهِمْ خَیْرًا، الْمُقِیْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُضْطَرِبِ بِمَالِهٖ، وَ الْمُتَرَفِّقِ بِبَدَنِهٖ، فَاِنَّهُمْ مَوَادُّ الْمَنَافِعِ، وَ اَسْبَابُ الْمَرَافِقِ، وَ جُلَّابُهَا مِنَ الْمَبَاعِدِ وَ الْمَطَارِحِ، فِیْ بَرِّكَ وَ بَحْرِكَ، وَ سَهْلِكَ وَ جَبَلِكَ، وَ حَیْثُ لَا یَلْتَئِمُ النَّاسُ لِمَوَاضِعِهَا، وَ لَا یَجْتَرِءُوْنَ‏ عَلَیْهَا، فَاِنَّهُمْ سِلْمٌ لَّا تُخَافُ بَآئِقَتُهٗ، وَ صُلْحٌ لَّا تُخْشٰى غَآئِلَتُهٗ، وَ تَفَقَّدْ اُمُوْرَهُمْ بِحَضْرَتِكَ وَ فِیْ حَوَاشِیْ بِلَادِكَ.
پھر تمہیں تاجروں اور صنّاعوں کے خیال اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ہدایت کی جاتی ہے، اور تمہیں دوسروں کو ان کے متعلق ہدایت کرنا ہے، خواہ وہ ایک جگہ رہ کر بیوپار کرنے والے ہوں یا پھیری لگا کر بیچنے والے ہوں، یا جسمانی مشقت (مزدوری یا دستکاری) سے کمانے والے ہوں، کیونکہ یہی لوگ منافع کا سرچشمہ اور ضروریات کے مہیا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان ضروریات کو خشکیوں، تریوں، میدانی علاقوں اور پہاڑوں ایسے دور افتادہ مقامات سے درآمد کرتے ہیں، اور ایسی جگہوں سے کہ جہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے اور نہ وہاں جانے کی ہمت کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ امن پسند اور صلح جُو ہوتے ہیں۔ ان سے کسی فساد اور شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تمہارے سامنے ہوں یا جہاں جہاں دوسرے شہروں میں پھیلے ہوئے ہوں، تم ان کی خبر گیری کرتے رہنا۔
وَ اعْلَمْ مَعَ ذٰلِكَ اَنَّ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْهُمْ ضِیْقًا فَاحِشًا، وَ شُحًّا قَبِیْحًا، وَ احْتِكَارًا لِّلْمَنَافِعِ وَ تَحَكُّمًا فِی الْبِیَاعَاتِ، وَ ذٰلِكَ بَابُ مَضَرَّةٍ لِّلْعَامَّةِ، وَ عَیْبٌ عَلَى الْوُلَاةِ، فَامْنَعْ مِنَ الْاِحْتِكَارِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ مَنَعَ مِنْهُ.
ہاں! اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی تنگ نظر اور بڑے کنجوس ہیں، جو نفع کیلئے مال روک رکھتے ہیں اور اونچے نرخ معین کر لیتے ہیں، یہ چیز عوام کیلئے نقصان دہ اور حکام کی بدنامی کا باعث ہوتی ہے۔ لہٰذا ذخیرہ اندوزی سے منع کرنا، کیو نکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔
وَ لْیَكُنِ الْبَیْعُ بَیْعًا سَمْحًۢا بِمَوَازِیْنِ عَدْلٍ، وَ اَسْعَارٍ لَّا تُجْحِفُ بِالْفَرِیْقَیْنِ، مِنَ الْبَآئِعِ وَ الْمُبْتَاعِ، فَمَنْ قَارَفَ حُكْرَةًۢ بَعْدَ نَهْیِكَ اِیَّاهُ فَنَكِّلْ بِهٖ، وَ عَاقِبْ فِیْ غَیْرِ اِسْرَافٍ.
اور خرید و فروخت صحیح ترازوؤں اور مناسب نرخوں کے ساتھ بسہولت ہونا چاہیے کہ نہ بیچنے والے کو نقصان ہو اور نہ خریدنے والے کو خسارہ ہو۔ اس کے بعد بھی کوئی ذخیرہ اندوزی کے جرم کا مرتکب ہو تو اسے مناسب حد تک سزا دینا۔
ثُمَّ اللّٰهَ اللّٰهَ فِی الطَّبَقَةِ السُّفْلٰى مِنَ الَّذِیْنَ لَا حِیْلَةَ لَهُمْ، وَ الْمَسَاكِیْنِ وَ الْمُحْتَاجِیْنَ، وَ اَهْلِ الْبُؤْسٰى وَ الزَّمْنٰى، فَاِنَّ فِیْ هٰذِهِ الطَّبَقَةِ قَانِعًا وَّ مُعْتَرًّا، وَ احْفَظْ لِلّٰهِ مَا اسْتَحْفَظَكَ مِنْ حَقِّهٖ فِیْهِمْ،‏ وَ اجْعَلْ لَّهُمْ قِسْمًا مِّنْۢ بَیْتِ مَالِكِ، وَ قِسْمًا مِّنْ غَلَّاتِ صَوَافِی الْاِسْلَامِ فِی كُلِّ بَلَدٍ، فَاِنَّ لِلْاَقْصٰى مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِیْ لِلْاَدْنٰى، وَ كُلٌّ قَدِ اسْتُرْعِیْتَ حَقَّهٗ، فَلَا یَشْغَلَنَّكَ عَنْهُمْ بَطَرٌ، فَاِنَّكَ لَا تُعْذَرُ بِتَضْیِیْعِكَ التَّافِهَ لِاِحْكَامِكَ الْكَثِیْرَ الْمُهِمَّ. فَلَا تُشْخِصْ هَمَّكَ عَنْهُمْ، وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لَهُمْ.
پھر خصوصیت کے ساتھ اللہ کا خوف کرنا پسماندہ و افتادہ طبقہ کے بارے میں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا، وہ مسکینوں، محتاجوں، فقیروں اور معذوروں کا طبقہ ہے۔ ان میں سے کچھ تو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے ہوتے ہیں اور کچھ کی صورت سوال ہوتی ہے۔ اللہ کی خاطر اِن بے کسوں کے بارے میں اس کے اس حق کی حفاظت کرنا جس کا اس نے تمہیں ذمہ دار بنایا ہے۔ ان کیلئے ایک حصہ بیت المال سے معین کر دینا اور ایک حصہ ہر شہر کے اس غلہ میں سے دینا جو اسلامی غنیمت کی زمینوں سے حاصل ہوا ہو، کیو نکہ اس میں دور والوں کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا نزدیک والوں کا ہے۔ اور تم ان سب کے حقوق کی نگہداشت کے ذمہ دار بنائے گئے ہو۔ لہٰذا تمہیں دولت کی سرمستی ان سے غافل نہ کر دے، کیونکہ کسی معمولی بات کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ تم نے بہت سے اہم کاموں کو پورا کر دیا ہے۔ لہٰذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا اور نہ تکبر کے ساتھ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیرنا۔
وَ تَفَقَّدْ اُمُوْرَ مَنْ لَّا یَصِلُ اِلَیْكَ مِنْهُمْ، مِمَّنْ تَقْتَحِمُهُ الْعُیُوْنُ، وَ تَحْقِرُهُ الرِّجَالُ، فَفَرِّغْ لِاُولٰٓئِكَ ثِقَتَكَ مِنْ اَهْلِ الْخَشْیَةِ وَ التَّوَاضُعِ، فَلْیَرْفَعْ اِلَیْكَ اُمُوْرَهُمْ، ثُمَّ اعْمَلْ فِیْهِمْ بِالْاِعْذَارِ اِلَى اللّٰهِ یَوْمَ تَلْقَاهُ، فَاِنَّ هٰٓؤُلَآءِ مِنْۢ بَیْنِ الرَّعِیَّةِ اَحْوَجُ اِلَى الْاِنْصَافِ مِنْ غَیْرِهِمْ، وَ كُلٌّ فَاَعْذِرْ اِلَى اللّٰهِ فِیْ تَاْدِیَةِ حَقِّهٖۤ اِلَیْهِ.
اور خصوصیت کے ساتھ خبر رکھو ایسے افراد کی جو تم تک پہنچ نہیں سکتے، جنہیں آنکھیں دیکھنے سے کراہت کرتی ہوں گی اور لوگ انہیں حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے، تم ان کیلئے اپنے کسی بھروسے کے آدمی کو جو خوفِ خدا رکھنے والا اور متواضع ہو، مقرر کر دینا کہ وہ ان کے حالات تم تک پہنچاتا رہے۔ پھر ان کے ساتھ وہ طرزِ عمل اختیار کرنا جس سے کہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حجت پیش کر سکو، کیونکہ رعیت میں دوسروں سے زیادہ یہ انصاف کے محتاج ہیں، اور یوں تو سب ہی ایسے ہیں کہ تمہیں ان کے حقوق سے عہدہ برآ ہو کر اللہ کے سامنے سرخرو ہونا ہے۔
وَ تَعَهَّدْ اَهْلَ الْیُتْمِ وَ ذَوِی الرِّقَّةِ فِی السِّنِّ، مِمَّنْ لَّا حِیْلَةَ لَهٗ، وَ لَا یَنْصِبُ لِلْمَسْئَلَةِ نَفْسَهٗ، وَ ذٰلِكَ عَلَى الْوُلَاةِ ثَقِیْلٌ، وَ الْحَقُّ كُلُّهٗ ثَقِیْلٌ، وَ قَدْ یُخَفِّفُهُ اللّٰهُ عَلٰۤى اَقْوَامٍ طَلَبُوا الْعَاقِبَةَ فَصَبَّرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ، وَ وَثِقُوْا بِصِدْقِ مَوْعُوْدِ اللّٰهِ لَهُمْ.
اور دیکھو یتیموں اور سال خوردہ بوڑھوں کا خیال رکھنا کہ جو نہ کوئی سہارا رکھتے ہیں اور نہ سوال کیلئے اٹھتے ہیں، اور یہی وہ کام ہے جو حکام پر گراں گزرا کرتا ہے (اور حق تو بہرحال گراں ہی ہوا کرتا ہے)۔ ہاں خدا ان لوگوں کیلئے جو عقبیٰ کے طلب گار رہتے ہیں، اس کی گرانیوں کو ہلکا کر دیتا ہے، وہ اسے اپنی ذات پر جھیل لے جاتے ہیں اور اللہ نے جو ان سے وعدہ کیا ہے اس کی سچائی پر بھروسا رکھتے ہیں۔
وَ اجْعَلْ لِذَوِی الْحَاجَاتِ مِنْكَ قِسْمًا تُفَرِّغُ لَهُمْ فِیْهِ شَخْصَكَ، وَ تَجْلِسُ لَهُمْ مَجْلِسًا عَامًّا، فَتَتَوَاضَعُ فِیْهِ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَكَ، وَ تُقْعِدُ عَنْهُمْ جُنْدَكَ وَ اَعْوَانَكَ، مِنْ اَحْرَاسِكَ وَ شُرَطِكَ، حَتّٰى یُكَلِّمَكَ مُتَكَلِّمُهُمْ غَیْرَ مُتَتَعْتِعٍ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ غَیْرِ مَوْطِنٍ: «لَنْ تُقَدَّسَ اُمَّةٌ لَّا یُؤْخَذُ لِلضَّعِیْفِ فِیْهَا حَقُّهٗ مِنَ الْقَوِیِّ غَیْرَ مُتَتَعْتِعٍ».
اور تم اپنے اوقات کا ایک حصہ حاجتمندوں کیلئے معین کر دینا جس میں سب کام چھوڑ کر انہی کیلئے مخصوص ہو جانا، اور ان کیلئے ایک عام دربار کر نا، اور اس میں اپنے پیدا کرنے والے اللہ کیلئے تواضع و انکساری سے کام لینا، اور فوجیوں، نگہبانوں اور پولیس والوں کو ہٹا دینا، تاکہ کہنے والے بے دھڑک کہہ سکیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کئی موقعوں پر فرماتے سنا ہے کہ: »اس قوم میں پاکیزگی نہیں آ سکتی جس میں کمزوروں کو کھل کر طاقتوروں سے حق نہیں دلایا جاتا«۔
ثُمَّ احْتَمِلِ الْخُرْقَ مِنْهُمْ وَ الْعِیَّ، وَ نَحِّ عَنْكَ الضِّیْقَ وَ الْاَنَفَ، یَبْسُطِ اللّٰهُ عَلَیْكَ بِذٰلِكَ اَكْنَافَ رَحْمَتِهٖ، وَ یُوْجِبْ لَكَ ثَوَابَ طَاعَتِهٖ، وَ اَعْطِ مَآ اَعْطَیْتَ هَنِیْٓئًا، وَ امْنَعْ فِیْۤ اِجْمَالٍ وَّ اِعْذَارٍ.
پھر یہ کہ اگر ان کے تیور بگڑیں، یا صاف صاف مطلب نہ کہہ سکیں، تو اسے برداشت کرنا اور تنگ دلی اور نخوت کو ان کے مقابلہ میں پاس نہ آنے دینا۔ اس کی وجہ سے اللہ تم پر اپنی رحمت کے دامنوں کو پھیلا دے گا اور اپنی فرماں برداری کا تمہیں ضرور اجر دے گا۔ اور جو حسن سلوک کرنا اس طرح کہ چہرے پر شکن نہ آئے اور نہ دینا تو اچھے طریقے سے عذر خواہی کر لینا۔
ثُمَّ اُمُوْرٌ مِّنْ اُمُوْرِكَ لَا بُدَّ لَكَ مِنْ مُّبَاشَرَتِهَا: مِنْهَا اِجَابَةُ عُمَّالِكَ بِمَا یَعْیَا عَنْهُ كُتَّابُكَ، وَ مِنْهَا اِصْدَارُ حَاجَاتِ النَّاسِ یَوْمَ وُرُوْدِهَا عَلَیْكَ‏ مِمَّا تَحْرَجُ بِهٖ صُدُوْرُ اَعْوَانِكَ، وَ اَمْضِ لِكُلِّ یَوْمٍ عَمَلَهٗ، فَاِنَّ لِكُلِّ یَوْمٍ مَّا فِیْهِ، وَ اجْعَلْ لِّنَفْسِكَ فِیْمَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ اللّٰهِ اَفْضَلَ تِلْكَ الْمَوَاقِیْتِ، وَ اَجْزَلَ تِلْكَ الْاَقْسَامِ، وَ اِنْ كَانَتْ كُلُّهَا لِلّٰهِ، اِذَا صَلَحَتْ فِیْهَا النِّیَّةُ، وَ سَلِمَتْ مِنْهَا الرَّعِیَّةُ.
پھر کچھ امور ایسے ہیں کہ جنہیں خود تم ہی کو انجام دینا چاہیے۔ ان میں سے ایک حکام کے ان مراسلات کا جواب دینا ہے جو تمہارے منشیوں کے بس میں نہ ہوں، اور ایک لوگوں کی حاجتیں جب تمہارے سامنے پیش ہوں اور تمہارے عملہ کے ارکان ان سے جی چرائیں تو خود انہیں انجام دینا ہے۔ روز کا کام اسی روز ختم کر دیا کرو، کیونکہ ہر دن اپنے ہی کام کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔ اور اپنے اوقات کا بہتر و افضل حصہ اللہ کی عبادت کیلئے خاص کر دینا، اگرچہ وہ تمام کام بھی اللہ ہی کیلئے ہیں، جب نیت بخیر ہو اور ان سے رعیت کی خوشحالی ہو۔
وَ لْیَكُنْ فِیْ خَاصَّةِ مَا تُخْلِصُ بِهٖ لِلّٰهِ دِیْنَكَ: اِقَامَةُ فَرَآئِضِهِ الَّتِیْ هِیَ لَهٗ خَاصَّةً، فَاَعْطِ اللّٰهَ مِنْۢ بَدَنِكَ فِیْ لَیْلِكَ وَ نَهَارِكَ، وَ وَفِّ مَا تَقَرَّبْتَ بِهٖۤ اِلَى اللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ كَامِلًا غَیْرَ مَثْلُوْمٍ وَّ لَا مَنْقُوْصٍ، بَالِغًا مِّنْ بَدَنِكَ مَا بَلَغَ.
ان مخصوص اشغال میں سے کہ جن کے ساتھ تم خلوص کے ساتھ اللہ کیلئے اپنے دینی فریضہ کو ادا کرتے ہو، ان واجبات کی انجام دہی ہونا چاہیے جو اس کی ذات سے مخصوص ہیں۔ تم شب و روز کے اوقات میں اپنی جسمانی طاقتوں کا کچھ حصہ اللہ کے سپرد کر دو، اور جو عبادت بھی تقرب الٰہی کی غرض سے بجا لانا، ایسی ہو کہ نہ اس میں کوئی خلل ہو اور نہ کوئی نقص، چاہے اس میں تمہیں کتنی ہی جسمانی زحمت اٹھانا پڑے۔
وَ اِذَا قُمْتَ فِیْ صَلٰوتِكَ لِلنَّاسِ فَلَا تَكُوْنَنَّ مُنَفِّرًا وَّ لَا مُضَیِّعًا، فَاِنَّ فِی النَّاسِ مَنْۢ بِهِ الْعِلَّةُ وَ لَهُ الْحَاجَةُ، وَ قَدْ سَئَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ حِیْنَ وَجَّهَنِیْۤ اِلَى الْیَمَنِ: كَیْفَ اُصَلِّیْ بِهِمْ؟ فَقَالَ: «صَلِّ بِهِمْ كَصَلٰوةِ اَضْعَفِهِمْ وَ كُنْۢ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا».
اور دیکھو! جب لوگوں کو نماز پڑھانا تو ایسی نہیں کہ (طول دے کر) لوگوں کو بیزار کر دو اور نہ ایسی مختصر کہ نماز برباد ہو جائے۔ اس لئے کہ نمازیوں میں بیمار بھی ہوتے ہیں اور ایسے بھی جنہیں کوئی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف روانہ کیا تو میں نے آپؐ سے دریافت کیا کہ: انہیں نماز کس طرح پڑھاؤں؟ تو فرمایا کہ: «جیسی ان میں سب سے زیادہ کمزور و ناتواں کی نماز ہو سکتی ہے اور تمہیں مومنوں کے حال پر مہربان ہونا چاہیے»۔
وَ اَمَّا بَعْدُ! فَلَا تُطَوِّلَنَّ احْتِجَابَكَ عَنْ رَّعِیَّتِكَ، فَاِنَّ احْتِجَابَ الْوُلَاةِ عَنِ الرَّعِیَّةِ شُعْبَةٌ مِّنَ الضِّیْقِ، وَ قِلَّةُ عِلْمٍۭ بِالْاُمُوْرِ، وَ الِاحْتِجَابُ مِنْهُمْ‏ یَقْطَعُ عَنْهُمْ عِلْمَ مَا احْتَجَبُوْا دُوْنَهٗ، فَیَصْغُرُ عِنْدَهُمُ الْكَبِیْرُ، وَ یَعْظُمُ الصَّغِیْرُ، وَ یَقْبُحُ الْحَسَنُ، وَ یَحْسُنُ الْقَبِیْحُ، وَ یُشَابُ الْحَقُّ بِالْبَاطِلِ. وَ اِنَّمَا الْوَالِیْ بَشَرٌ لَّا یَعْرِفُ مَا تَوَارٰى عَنْهُ النَّاسُ بِهٖ مِنَ الْاُمُوْرِ، وَ لَیْسَتْ عَلَى الْحَقِّ سِمَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا ضُرُوْبُ الصِّدْقِ مِنَ الْكَذِبِ.
اس کے بعد یہ خیال رہے کہ رعایا سے عرصہ تک روپوشی اختیار نہ کرنا، کیونکہ حکمرانوں کا رعایا سے چھپ کر رہنا ایک طرح کی تنگ دلی اور معاملات سے بے خبر رہنے کا سبب ہے، اور یہ رو پوشی انہیں بھی ان امور پر مطلع ہونے سے روکتی ہے کہ جن سے وہ ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے بڑی چیز ان کی نگاہ میں چھوٹی اور چھوٹی چیز بڑی، اچھائی برائی اور برائی اچھائی ہو جایا کرتی ہے، اور حق باطل کے ساتھ مل جل جاتا ہے۔ اور حکمران بھی آخر ایسا ہی بشر ہوتا ہے جو ناواقف رہے گا ان معاملات سے جو لوگ اس سے پوشیدہ کریں۔ اور حق کی پیشانی پر کوئی نشان نہیں ہوا کرتے کہ جس کے ذریعے جھوٹ سے سچ کی قسموں کو الگ کر کے پہچان لیا جائے۔
وَ اِنَّمَاۤ اَنْتَ اَحَدُ رَجُلَیْنِ: اِمَّا امْرُؤٌ سَخَتْ نَفْسُكَ بِالْبَذْلِ فِی الْحَقِّ، فَفِیْمَ احْتِجَابُكَ مِنْ وَّاجِبِ حَقٍّ تُعْطِیْهِ اَوْ فِعْلٍ كَرِیْمٍ تُسْدِیْهِ، اَوْ مُبْتَلًۢى بِالْمَنْعِ، فَمَاۤ اَسْرَعَ كَفَّ النَّاسِ عَنْ مَّسْئَلَتِكَ اِذَا اَیِسُوْا مِنْۢ بَذْلِكَ، مَعَ اَنَّ اَكْثَرَ حَاجَاتِ النَّاسِ اِلَیْكَ مِمَّا لَا مَؤٗنَةَ فِیْهِ عَلَیْكَ، مِنْ شَكَاةِ مَظْلِمَةٍ، اَوْ طَلَبِ اِنْصَافٍ فِیْ مُعَامَلَةٍ.
اور پھر تم دو ہی طرح کے آدمی ہو سکتے ہو: یا تو تم ایسے ہو کہ تمہارا نفس حق کے ادائیگی کیلئے آمادہ ہے، تو پھر واجب حقوق ادا کرنے اور اچھے کام کر گزرنے سے منہ چھپانے کی ضرورت کیا؟ اور یا تم ایسے ہو کہ لوگوں کو تم سے کورا جواب ہی ملنا ہے، تو جب لوگ تمہاری عطا سے مایوس ہو جائیں گے تو خود ہی بہت جلد تم سے مانگنا چھوڑ دیں گے اور پھر یہ کہ لوگوں کی اکثر ضرورتیں ایسی ہوں گی جن سے تمہاری جیب پر کوئی بار نہیں پڑتا۔ جیسے کسی کے ظلم کی شکایت یا کسی معاملہ میں انصاف کا مطالبہ۔
ثُمَّ اِنَّ لِلْوَالِیْ خَاصَّةً وَّ بِطَانَةً، فِیْهِمُ اسْتِئْثَارٌ وَّ تَطَاوُلٌ، وَ قِلَّةُ اِنْصَافٍ فِیْ مُعَامَلَةٍ، فَاحْسِمْ مَادَّةَ اُولٰٓئِكَ بِقَطْعِ اَسْبَابِ تِلْكَ الْاَحْوَالِ.
اس کے بعد معلوم ہونا چاہیے کہ حکام کے کچھ خواص اور سر چڑھے لوگ ہوا کرتے ہیں جن میں خود غرضی، دست درازی اور بد معاملگی ہوا کرتی ہے۔ تم کو ان حالات کے پیدا ہونے کی وجوہ ختم کر کے اس گندے مواد کو ختم کر دینا چاہیے۔
وَ لَا تَقْطَعَنَّ لِاَحَدٍ مِّنْ حَاشِیَتِكَ وَ حَامَّتِكَ قَطِیْعَةً، وَ لَا یَطْمَعَنَّ مِنْكَ فِی‏اعْتِقَادِ عُقْدَةٍ تَضُرُّ بِمَنْۢ یَلِیْهَا مِنَ النَّاسِ فِیْ شِرْبٍ، اَوْ عَمَلٍ مُّشْتَرَكٍ یَّحْمِلُوْنَ مَؤٗنَتَهٗ عَلٰى غَیْرِهِمْ، فَیَكُوْنَ مَهْنَاُ ذٰلِكَ لَهُمْ دُوْنَكَ، وَ عَیْبُهٗ عَلَیْكَ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ.
اور دیکھو! اپنے کسی حاشیہ نشین اور قرابت دار کو جاگیر نہ دینا اور اسے تم سے توقع نہ بندھنا چاہیے کسی ایسی زمین پر قبضہ کرنے کی جو آبپاشی، یا کسی مشترکہ معاملہ میں اس کے آس پاس کے لوگوں کیلئے ضرر کی باعث ہو، یوں کہ اس کا بوجھ دوسرے پر ڈال دے۔ اس صورت میں اس کے خوشگوار مزے تو اس کیلئے ہوں گے نہ تمہارے لئے، مگر اس کا بدنما دھبہ دنیا و آخرت میں تمہارے دامن پر رہ جائے گا۔
وَ اَلْزِمِ الْحَقَّ مَنْ لَّزِمَهٗ مِنَ الْقَرِیْبِ وَ الْبَعِیْدِ، وَ كُنْ فِیْ ذٰلِكَ صَابِرًا مُّحْتَسِبًا، وَاقِعًا ذٰلِكَ مِنْ قَرَابَتِكَ وَ خَاصَّتِكَ حَیْثُ وَقَعَ، وَ ابْتَغِ عَاقِبَتَهٗ بِمَا یَثْقُلُ عَلَیْكَ مِنْهُ، فَاِنَّ مَغَبَّةَ ذٰلِكَ مَحْمُوْدَةٌ.
اور جس پر جو حق عائد ہوتا ہو اس پر اس حق کو نافذ کرنا چاہیے۔ وہ تمہارا اپنا ہو یا بیگانہ ہو۔ اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا اور ثواب کے امید وار رہنا۔ چاہے اس کی زد تمہارے کسی قریبی عزیز یا کسی مصاحبِ خاص پر کیسی ہی پڑتی ہو اور اس میں تمہاری طبیعت کو جو گرانی محسوس ہو، اس کے اُخروی نتیجہ کو پیش نظر رکھنا کہ اس کا انجام بہرحال اچھا ہو گا۔
وَ اِنْ ظَنَّتِ الرَّعِیَّةُ بِكَ حَیْفًا فَاَصْحِرْ لَهُمْ بِعُذْرِكَ، وَ اعْدِلْ عَنْكَ ظُنُوْنَهُمْ بِاِصْحَارِكَ، فَاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ رِیَاضَةً مِّنْكَ لِنَفْسِكَ، وَ رِفْقًۢا بِرَعِیَّتِكَ، وَ اِعْذَارًا تَبْلُغُ بِهٖ حَاجَتَكَ مِنْ تَقْوِیْمِهِمْ عَلَى الْحَقِّ.
اور اگر رعیت کو تمہارے بارے میں کبھی یہ بد گمانی ہو جائے کہ تم نے اس پر ظلم و زیادتی کی ہے تو اپنے عذر کو واضح طور سے پیش کردو، اور عذر واضح کر کے ان کے خیالات کو بدل دو۔ اس سے تمہارے نفس کی تربیت ہو گی، اور رعایا پر مہربانی ثابت ہو گی، اور اس عذر آوری سے ان کو حق پر استوار کرنے کا مقصد تمہارا پورا ہو گا۔
وَ لَا تَدْفَعَنَّ صُلْحًا دَعَاكَ اِلَیْهِ عَدُوُّكَ و لِلّٰهِ فِیْهِ رِضًا، فَاِنَّ فِی الصُّلْحِ‏ دَعَةً لِّجُنُوْدِكَ، وَ رَاحَةً مِّنْ هُمُوْمِكَ، وَ اَمْنًا لِّبِلَادِكَ، وَ لٰكِنِ الْحَذَرَ كُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّكَ بَعْدَ صُلْحِهٖ، فَاِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِیَتَغَفَّلَ، فَخُذْ بِالْحَزْمِ، وَ اتَّهِمْ فِیْ ذٰلِكَ حُسْنَ الظَّنِّ.
اگر دشمن ایسی صلح کی تمہیں دعوت دے کہ جس میں اللہ کی رضا مندی ہو، تو اسے کبھی ٹھکرا نہ دینا۔ کیونکہ صلح میں تمہارے لشکر کیلئے آرام و راحت، خود تمہارے لئے فکروں سے نجات اور شہروں کیلئے امن کا سامان ہے۔ لیکن صلح کے بعد دشمن سے چوکنا اور خوب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قرب حاصل کرتا ہے تاکہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھائے۔ لہٰذا احتیاط کو ملحوظ رکھو اور اس بارے میں حسن ظن سے کام نہ لو۔
وَ اِنْ عَقَدْتَّ بَیْنَكَ وَ بَیْنَ عَدُوِّكَ عُقْدَةً، اَوْ اَلْبَسْتَهٗ مِنْكَ ذِمَّةً، فَحُطْ عَهْدَكَ بِالْوَفَآءِ، وَ ارْعَ ذِمَّتَكَ بِالْاَمَانَةِ، وَ اجْعَلْ نَفْسَكَ جُنَّةً دُوْنَ مَاۤ اَعْطَیْتَ، فَاِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ فَرَآئِضِ اللّٰهِ شَیْ‏ءٌ النَّاسُ اَشَدُّ عَلَیْهِ اجْتِمَاعًا، مَعَ تَفَرُّقِ اَهْوَآئِهِمْ، وَ تَشَتُّتِ اٰرَآئِهِمْ، مِنْ تَعْظِیْمِ الْوَفَآءِ بِالْعُهُوْدِ، وَ قَدْ لَزِمَ ذٰلِكَ الْمُشْرِكُوْنَ فِیْمَا بَیْنَهُمْ دُوْنَ الْمُسْلِمِیْنَ، لِمَا اسْتَوْبَلُوْا مِنْ عَوَاقِبِ الْغَدْرِ، فَلَا تَغْدِرَنَّ بِذِمَّتِكَ، وَ لَا تَخِیْسَنَّ بِعَهْدِكَ، وَ لَا تَخْتِلَنَّ عَدُوَّكَ، فَاِنَّهٗ لَا یَجْتَرِئُ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا جَاهِلٌ شَقِیٌّ. وَ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ عَهْدَهٗ وَ ذِمَّتَهٗ اَمْنًا اَفْضَاهُ بَیْنَ الْعِبَادِ بِرَحْمَتِهٖ، وَ حَرِیْمًا یَّسْكُنُوْنَ اِلٰى مَنَعَتِهٖ، وَ یَسْتَفِیْضُوْنَ اِلٰى جِوَارِهٖ، فَلَا اِدْغَالَ وَ لَا مُدَالَسَةَ وَ لَا خِدَاعَ فِیْهِ.
اور اگر اپنے اور دشمن کے درمیان کوئی معاہدہ کرو، یا اسے اپنے دامن میں پناہ دو، تو پھر عہد کی پابندی کرو، وعدہ کا لحاظ رکھو، اور اپنے قول و قرار کی حفاظت کیلئے اپنی جان کو سپر بنا دو۔ کیونکہ اللہ کے فرائض میں سے ایفائے عہد کی ایسی کوئی چیز نہیں کہ جس کی اہمیت پر دنیا اپنے الگ الگ نظریوں اور مختلف رایوں کے باوجود یکجہتی سے متفق ہو، اور مسلمانوں کے علاوہ مشرکوں تک نے اپنے درمیان معاہدوں کی پابندی کی ہے۔ اس لئے کہ عہد شکنی کے نتیجہ میں انہوں نے تباہیوں کا اندازہ کیا تھا۔ لہٰذا اپنے عہد و پیمان میں غداری اور قول و قرار میں بدعہدی نہ کرنا اور اپنے دشمن پر اچانک حملہ نہ کرنا، کیونکہ اللہ پر جرأت جاہل بدبخت کے علاوہ دوسرا نہیں کر سکتا، اور اللہ نے عہد و پیمان کی پابندی کو امن کا پیغام قرار دیا ہے کہ جسے اپنی رحمت سے بندوں میں عام کر دیا ہے، اور ایسی پناہ گاہ بنا یا ہے کہ جس کے دامنِ حفاظت میں پناہ لینے اور اس کے جوار میں منزل کرنے کیلئے وہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی جعلسازی، فریب کاری اور مکاری نہ ہونا چاہیے۔
وَ لَا تَعْقِدْ عَقْدًا تَجُوْزُ فِیْهِ الْعِلَلُ، وَ لَا تُعَوِّلَنَّ عَلٰى لَحْنِ قَوْلٍ بَعْدَ التَّاْكِیْدِ وَ التَّوْثِقَةِ، وَ لَا یَدْعُوَنَّكَ ضِیْقُ اَمْرٍ لَّزِمَكَ فِیْهِ عَهْدُ اللّٰهِ اِلٰى طَلَبِ انْفِسَاخِهٖ بِغَیْرِ الْحَقِّ، فَاِنَّ صَبْرَكَ عَلٰى ضِیْقِ اَمْرٍ تَرْجُو انْفِرَاجَهٗ وَ فَضْلَ عَاقِبَتِهٖ خَیْرٌ مِّنْ غَدْرٍ تَخَافُ تَبِعَتَهٗ، وَ اَنْ تُحِیْطَ بِكَ مِنَ اللّٰهِ فِیْهِ طِلْبَةٌ، فَلَا تَسْتَقِیْلَ فِیْهَا دُنْیَاكَ وَ لَاۤ اٰخِرَتَكَ.
اور ایسا کوئی معاہدہ کرو ہی نہ جس میں تاویلوں کی ضرورت پڑنے کا امکان ہو، اور معاہدہ کے پختہ اور طے ہو جانے کے بعد اس کے کسی مبہم لفظ کے دوسرے معنی نکال کر فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو، اور اس عہد و پیمانِ خداوندی میں کسی دشواری کا محسوس ہونا تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہونا چاہیے کہ تم اسے ناحق منسوخ کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ ایسی دشواریوں کو جھیل لے جانا کہ جن سے چھٹکارے کی اور انجام بخیر ہونے کی امید ہو، اس بدعہدی کرنے سے بہتر ہے جس کے برے انجام کا تمہیں خوف اور اس کا اندیشہ ہو کہ اللہ کے یہاں تم سے اس پر کوئی جواب دہی ہو گی، اور اس طرح تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی ہو گی۔
اِیَّاكَ وَ الدِّمَآءَ وَ سَفْكَهَا بِغَیْرِ حِلِّهَا، فَاِنَّهٗ لَیْسَ شَیْ‏ءٌ اَدْعٰى لِنِقْمَةٍ، وَ لَاۤ اَعْظَمَ لِتَبِعَةٍ، وَ لَا اَحْرٰى بِزَوَالِ نِعْمَةٍ وَّ انْقِطَاعِ مُدَّةٍ، مِنْ سَفْكِ الدِّمَآءِبِغَیْرِ حَقِّهَا، وَ اللّٰهُ سُبْحَانَهٗ مُبْتَدِئٌۢ بِالْحُكْمِ بَیْنَ الْعِبَادِ فِیْمَا تَسَافَكُوْا مِنَ الدِّمَآءِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ، فَلَا تُقَوِّیَنَّ سُلْطَانَكَ بِسَفْكِ دَمٍ حَرَامٍ، فَاِنَّ ذٰلِكَ مِمَّا یُضْعِفُهٗ وَ یُوْهِنُهٗ، بَلْ یُزِیْلُهٗ وَ یَنْقُلُهٗ.
دیکھو! ناحق خونریزیوں سے دامن بچائے رکھنا، کیونکہ عذابِ الٰہی سے قریب، اور پاداش کے لحاظ سے سخت، اور نعمتوں کے سلب ہونے، اور عمر کے خاتمہ کا سبب، ناحق خونریزی سے زیادہ کوئی شے نہیں ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ سبحانہ سب سے پہلے جو فیصلہ کرے گا وہ انہی خونوں کا جو بندگانِ خدا نے ایک دوسرے کے بہائے ہیں۔ لہٰذا ناحق خون بہا کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کوشش کبھی نہ کرنا، کیونکہ یہ چیز اقتدار کو کمزور اور کھوکھلا کر دینے والی ہوتی ہے، بلکہ اس کو بنیادوں سے ہلا کر دوسروں کو سونپ دینے والی۔
وَ لَا عُذْرَ لَكَ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لَا عِنْدِیْ فِیْ قَتْلِ الْعَمْدِ، لِاَنَّ فِیْهِ قَوَدَ الْبَدَنِ، وَ اِنِ ابْتُلِیْتَ بِخَطَاٍ، وَ اَفْرَطَ عَلَیْكَ سَوْطُكَ اَوْ سَیْفُكَ اَوْ یَدُكَ بِالْعُقُوْبَةِ، فَاِنَّ فِی الْوَكْزَةِ فَمَا فَوْقَهَا مَقْتَلَةً، فَلَا تَطْمَحَنَّ بِكَ نَخْوَةُ سُلْطَانِكَ عَنْ اَنْ تُؤَدِّیَ اِلٰۤى اَوْلِیَآءِ الْمَقْتُوْلِ حَقَّهُمْ.
اور جان بوجھ کر قتل کے جرم میں اللہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر چل سکے گا نہ میرے سامنے، کیو نکہ اس میں قصاص ضروری ہے۔ اور اگر غلطی سے تم اس کے مرتکب ہوجاؤ اور سزا دینے میں تمہارا کوڑا یا تلوار یا ہاتھ حد سے بڑھ جائے، اس لئے کہ کبھی گھونسا اور اس سے بھی چھوٹی ضرب ہلاکت کا سبب ہو جایا کرتی ہے، تو ایسی صورت میں اقتدار کے نشہ میں بے خود ہو کر مقتول کا خون بہا اس کے وارثوں تک پہنچانے میں کوتاہی نہ کرنا۔
وَ اِیَّاكَ وَ الْاِعْجَابَ بِنَفْسِكَ وَ الثِّقَةَ بِمَا یُعْجِبُكَ مِنْهَا وَ حُبَّ الْاِطْرَآءِ، فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ اَوْثَقِ فُرَصِ الشَّیْطٰنِ فِی نَفْسِهٖ، لِیَمْحَقَ مَا یَكُوْنُ مِنْ اِحْسَانِ الْمُحْسِنِیْنَ.
اور دیکھو! خود پسندی سے بچتے رہنا، اور اپنی جو باتیں اچھی معلوم ہوں ان پر اترانا نہیں، اور نہ لوگوں کے بڑھا چڑھا کر سراہنے کو پسند کرنا۔ کیونکہ شیطان کو جو مواقع ملا کرتے ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ اس کے نزدیک بھروسے کا ذریعہ ہے کہ وہ اس طرح نیکو کاروں کی نیکیوں پر پانی پھیر دے۔
وَ اِیَّاكَ وَ الْمَنَّ عَلٰى رَعِیَّتِكَ بِاِحْسَانِكَ، اَوِ التَّزَیُّدَ فِیْمَا كَانَ مِنْ فِعْلِكَ، اَوْ اَنْ تَعِدَهُمْ فَتُتْبِـعَ مَوْعِدَكَ بِخُلْفِكَ، فَاِنَّ الْمَنَّ یُبْطِلُ الْاِحْسَانَ، وَ التَّزَیُّدَ یَذْهَبُ بِنُوْرِ الْحَقِّ، وَ الْخُلْفَ یُوْجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللّٰهِ وَ النَّاسِ، قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝﴾
اور رعایا کے ساتھ نیکی کر کے کبھی احسان نہ جتانا، اور جو اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنا اسے زیادہ نہ سمجھنا، اور ان سے وعدہ کر کے بعد میں وعدہ خلافی نہ کرنا۔ کیونکہ احسان جتانا نیکی کو اَکارت کر دیتا ہے، اور اپنی بھلائی کو زیادہ خیال کر نا حق کی روشنی کو ختم کر دیناہے، اور وعدہ خلافی سے اللہ بھی ناراض ہوتا ہے اور بندے بھی۔ چنانچہ اللہ سبحانہ خود فرماتا ہے: ’’خدا کے نزدیک یہ بڑی ناراضگی کی چیز ہے کہ تم جو کہو اسے کرو نہیں‘‘۔
وَ اِیَّاكَ وَ الْعَجَلَةَ بِالْاُمُوْرِ قَبْلَ اَوَانِهَا، اَوِ التَّسَقُّطَ فِیْهَا عِنْدَ اِمْكَانِهَا، اَوِ اللَّجَاجَةَ فِیْهَا اِذَا تَنَكَّرَتْ، اَوِ الْوَهْنَ عَنْهَا اِذَا اسْتَوْضَحَتْ، فَضَعْ كُلَّ اَمْرٍ مَّوْضِعَهٗ، وَ اَوْقِعْ كُلَّ عَمَلٍ مَّوْقِعَهٗ.
اور دیکھو! وقت سے پہلے کسی کام میں جلد بازی نہ کرنا، اورجب اس کا موقع آجائے تو پھر کمزوری نہ دکھانا، اور جب صحیح صورت سمجھ میں نہ آئے تو اس پر مصر نہ ہونا، اور جب طریق کار واضح ہو جائے تو پھر سستی نہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھو اور ہر کام کو اس کے موقع پر انجام دو۔
وَ اِیَّاكَ وَ الِاسْتِئْثَارَ بِمَا النَّاسُ فِیْهِ اُسْوَةٌ، وَ التَّغَابِیَ عَمَّا یُعْنٰى بِهٖ مِمَّا قَدْ وَضَحَ لِلْعُیُوْنِ، فَاِنَّهٗ مَاْخُوْذٌ مِّنْكَ لِغَیْرِكَ، وَ عَمَّا قَلِیْلٍ تَنْكَشِفُ عَنْكَ اَغْطِیَةُ الْاُمُوْرِ، وَ یُنْتَصَفُ مِنْكَ لِلْمَظْلُوْمِ.
اور دیکھو! جن چیزوں میں سب لوگوں کا حق برابر ہوتا ہے اسے اپنے لئے مخصوص نہ کر لینا، اور قابل لحاظ حقوق سے غفلت نہ برتنا جو نظروں کے سامنے نمایاں ہوں، کیونکہ دوسروں کیلئے یہ ذمہ داری تم پر عائد ہے۔ اور مستقبل قریب میں تمام معاملات پر سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کر لی جائے گی۔
اِمْلِكْ حَمِیَّةَ اَنْفِكَ‏، وَ سَوْرَةَ حَدِّكَ، وَ سَطْوَةَ یَدِكَ، وَ غَرْبَ لِسَانِكَ، وَ احْتَرِسْ مِنْ كُلِّ ذٰلِكَ بِكَفِّ الْبَادِرَةِ، وَ تَاْخِیْرِ السَّطْوَةِ، حَتّٰى یَسْكُنَ غَضَبُكَ فَتَمْلِكَ الْاِخْتِیَارَ، وَ لَنْ تُحْكِمَ ذٰلِكَ مِنْ نَّفْسِكَ، حَتّٰى تُكْثِرَ هُمُوْمَكَ بِذِكْرِ الْمَعَادِ اِلٰى رَبِّكَ.
دیکھو! غضب کی تندی، سرکشی کے جوش، ہاتھ کی جنبش اور زبان کی تیزی پر ہمیشہ قابو رکھو۔ اور ان چیزوں سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ جلد بازی سے کام نہ لو، اور سزا دینے میں دیر کرو، یہاں تک کہ تمہارا غصہ کم ہو جائے اور تم اپنے اوپر قابو پالو۔ اور کبھی یہ بات تم اپنے نفس میں پورے طور پر پیدا نہیں کر سکتے جب تک اللہ کی طرف اپنی باز گشت کو یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ان تصورات کو قائم نہ رکھو۔
وَ الْوَاجِبُ عَلَیْكَ اَنْ تَتَذَكَّرَ مَا مَضٰى لِمَنْ تَقَدَّمَكَ، مِنْ حُكُوْمَةٍ عَادِلَةٍ، اَوْ سُنَّةٍ فَاضِلَةٍ، اَوْ اَثَرٍ عَنْ نَبِیِّنَا ﷺ، اَوْ فَرِیْضَةٍ فِیْ كِتَابِ اللّٰهِ، فَتَقْتَدِیَ بِمَا شَاهَدْتَّهٗ مِمَّا عَمِلْنَا بِهٖ فِیْهَا، وَ تَجْتَهِدَ لِنَفْسِكَ فِی اتِّبَاعِ مَا عَهِدْتُّ اِلَیْكَ فِیْ عَهْدِیْ هٰذَا وَ اسْتَوْثَقْتُ بِهٖ، مِنَ الْحُجَّةِ لِنَفْسِیْ عَلَیْكَ، لِكَیْلَا تَكُوْنَ لَكَ عِلَّةٌ عِنْدَ تَسَرُّعِ نَفْسِكَ اِلٰى هَوَاهَا.
اور تمہیں لازم ہے کہ گزشتہ زمانہ کی چیزوں کو یاد رکھو، خواہ کسی عادل حکومت کا طریق کار ہو، یا کوئی اچھا عمل درآمد ہو، یا رسول ﷺ کی کوئی حدیث ہو، یا کتاب اللہ میں درج شدہ کوئی فریضہ ہو، تو ان چیزوں کی پیروی کرو جن پر عمل کرتے ہوئے ہمیں دیکھا ہے اور ان ہدایات پر عمل کرتے رہنا جو میں نے اس عہد نامہ میں درج کی ہیں، اور ان کے ذریعہ سے میں نے اپنی حجت تم پر قائم کر دی ہے، تاکہ تمہارا نفس اپنی خواہشات کی طرف بڑھے تو تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہو۔
وَ اَنَا اَسْئَلُ اللّٰهَ بِسَعَةِ رَحْمَتِهٖ، وَ عَظِیْمِ قُدْرَتِهٖ عَلٰۤى اِعْطَآءِ كُلِّ رَغْبَةٍ، اَنْ یُّوَفِّقَنِیْ وَ اِیَّاكَ لِمَا فِیْهِ رِضَاهُ، مِنَ الْاِقَامَةِ عَلَى الْعُذْرِ الْوَاضِحِ اِلَیْهِ وَ اِلٰى خَلْقِهٖ، مَعَ حُسْنِ الثَّنَآءِ فِی الْعِبَادِ، وَ جَمِیْلِ الْاَثَرِ فِی الْبِلَادِ، وَ تَمَامِ‏ النِّعْمَةِ وَ تَضْعِیْفِ الْكَرَامَةِ، وَ اَنْ یَّخْتِمَ لِیْ وَ لَكَ بِالسَّعَادَةِ وَ الشَّهَادَةِ، وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رَاغِبُوْنَ، وَ السَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ، وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا كَثِیْرًا، وَ السَّلَامُ.
اور میں اللہ تعالیٰ سے اس کی وسیع رحمت اور ہر حاجت کے پورا کرنے پر عظیم قدرت کا واسطہ دے کر اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں اس کی توفیق بخشے جس میں اس کی رضا مندی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے اور اس کے بندوں کے سامنے ایک کھلا ہوا عذر قائم کر کے سرخرو ہوں، اور ساتھ ہی بندوں میں نیک نامی، اور ملک میں اچھے اثرات، اور اس کی نعمت میں فراوانی، اور روز افزوں عزت کو قائم رکھیں، اور یہ کہ میرا اور تمہارا خاتمہ سعادت و شہادت پر ہو۔ بیشک ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہِ الطَّیِبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا، وَ السَّلَامُ.

۱؂یہ عہد نامہ جسے اسلام کا دستور اساسی کہا جا سکتا ہے اس ہستی کا ترتیب دیا ہوا ہے جو قانون الٰہی کا سب سے بڑا واقف کار اور سب سے زیادہ اس پر عمل پیرا تھا۔ ان اوراق سے امیر المومنین علیہ السلام کے طرز جہانبانی کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر صرف قانونِ الٰہی کا نفاذ اور اصلاح معاشرت تھا۔ نہ امن عامہ میں خلل ڈالنا، نہ لوٹ کھسوٹ سے خزانوں کا منہ بھرنا اور نہ توسیعِ سلطنت کیلئے جائز و ناجائز وسائل سے آنکھ بند کر کے سعی و کوشش کرنا۔
دنیوی حکومتیں عموماً اس طرح کا قانون بنایا کرتی ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ حکومت کو فائدہ پہنچے اور ہر ایسے قانون کو بدلنے کی کوشش کیا کرتی ہیں جو اس کے مفاد سے متصادم اور اس کے مقصد کیلئے نقصان رساں ہو۔ مگر اس دستور و آئین کی ہر دفعہ مفادِ عمومی کی نگہبان اور نظام اجتماعی کی محافظ ہے۔ اس کے نفاذ و اجرا میں نہ خود غرضی کا لگاؤ ہے اور نہ مفاد پرستی کا شائبہ۔ اس میں اللہ کے فرائض کی نگہداشت اور بلاتفریق مذہب و ملت حقوقِ انسانیت کی حفاظت اور شکستہ حال و فاقہ کش افراد کی خبر گیری اور پسماندہ و افتادہ طبقہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت ایسے بنیادی اصول ہیں جن سے حق و عدالت کے نشر، امن و سلامتی کے قیام اور رعیت کی فلاح بہبود کے سلسلہ میں پوری رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جب ۳۸ھ میں مالک ابن حارث اشتر رحمہ اللہ مصر کی حکومت پر فائز ہوئے تو حضرتؑ نے یہ عہد نامہ ان کیلئے قلمبند فرمایا۔ مالک اشتر امیر المومنین علیہ السلام کے ان خواص اصحاب میں سے تھے جو استقلال و پامردی کے جوہر دکھا کر کامل وثوق و اعتماد اور اپنے اخلاق و کردار کو حضرتؑ کے اخلاق و کردار کے سانچے میں ڈھال کر انتہائی قرب و اختصاص حاصل کر چکے تھے، جس کا اندازہ حضرتؑ کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے کہ:
لَقَدْ كَانَ لِیْ مِثْلَ مَا كُنْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ.
مالک میری نظروں میں ایسے ہی تھے جیسا میں رسول اللہ ﷺ کی نظروں میں تھا۔[۱]
چنانچہ انہوں نے بے لوث جذبۂ خدمت سے متاثر ہو کر جنگی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام معرکوں اور مہموں میں حضرتؑ کے دست و بازو ثابت ہوئے اور ہمت و جرأت کے وہ جوہر دکھائے کہ تمام عرب پر ان کی شجاعت کی دھاک بندھ گئی۔ اس غیر معمولی شجاعت کے ساتھ حلم و بردباری میں بھی بلند امتیاز کے حامل تھے۔ چنانچہ ورام ابن ابی فراس نے اپنے مجموعہ میں تحریر کیا ہے کہ: آپؑ ایک دفعہ ٹاٹ کا پیراہن پہنے اور ٹاٹ ہی کا عمامہ باندھے ہوئے بازار کوفہ میں سے گزر رہے تھے کہ ایک سر پھرے دوکاندار نے آپ کو اس وضع و لباس میں دیکھ کر کچھ گلے سڑے پتے اور شاخیں آپ کے اوپر پھینک دیں۔ مگر اس ناشائستہ حرکت سے آپ کی پیشانی پر نہ بل آیا اور نہ ہی نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، بلکہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئے کہ ایک شخص نے اس دوکاندار سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ گستاخی تم نے کس کے ساتھ کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون تھے۔ کہا کہ: یہ مالک اشتر تھے۔ یہ سن کر اس کے ہوش و حواس اڑ گئے اور اسی وقت ان کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے اس گستاخی و اہانت کی معافی مانگے۔ چنانچہ تلاش کرتا ہوا ایک مسجد میں پہنچا جہاں وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو یہ آگے بڑھ کر ان کے قدموں پر گر پڑا اور نہایت الحاح و زاری سے عفو کا طالب ہوا۔ آپ نے اس کے سر کو اوپر اٹھایا اور فرمایا کہ: خدا کی قسم! میں مسجد میں اس غرض سے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بارگاہِ خداوندی میں دُعائے مغفرت کروں، میں نے تو تمہیں اسی وقت معاف کر دیا تھا اور امید ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے گا۔ یہ ہے اس نبرد آزما کا عفو و درگزر جس کے نام سے بہادروں کے زہرے آب ہوجاتے تھے اور جس کی تلوار نے شجاعانِ عرب سے اپنا لوہا منوا لیا تھا اور شجاعت کا اصلی جوہر یہی ہے کہ انسان غیظ و غضب کی تلخیوں میں ضبط سے کام لے اور ناگواریوں کو صبر و سکون کے ساتھ جھیل لے جائے چنانچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
اَشْجَعُ النَّاسِ مَنْ غَلَبَ هَوَاهُ.
لوگوں میں بڑھ چڑھ کر شجاع وہ ہے جو ہوائے نفس پر غلبہ پائے۔[۲]
بہرحال ان خصوصیات و اوصاف کے علاوہ وہ نظم و انصرام مملکت کی بھی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ چنانچہ جب مصر میں عثمانی گروہ نے تخریبی جراثیم پھیلانا شروع کئے اور شر و فساد سے ملک کے نظم و نسق کو درہم برہم کرنا چاہا تو حضرتؑ نے محمد ابن ابی بکر کو وہاں کی حکومت سے الگ کر کے آپ ہی کے تقرر کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ وہ اس وقت نصیبین میں گورنر کی حیثیت سے مقیم تھے، مگر حضرتؑ نے انہیں طلب فرمایا کہ وہ نصیبین میں کسی کو اپنا نائب مقرر کر کے ان کے پاس پہنچیں۔ مالک نے اس فرمان کے بعدشبیب ابن عامر ازدی کو اپنی جگہ پر متعین کیا اور خود امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضرتؑ نے انہیں حکومت کا پروانہ لکھ کر مصر روانہ کیا اور اہل مصر کو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا تحریری حکم بھیجا۔
جب معاویہ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعہ مالک اشتر کے تقرر کا علم ہوا تو وہ چکرا سا گیا۔ کیونکہ وہ عمرو ابن عاص سے یہ وعدہ کر چکا تھا کہ وہ اسے اس کی کارکردگیوں کے صلہ میں مصر کی حکومت دے گا اور اسے یہ توقع تھی کہ عمرو ابن عاص محمد ابن ابی بکر کو بآسانی شکست دے کر ان کے ہاتھ سے اقتدار چھین لے گا۔ مگر مالک اشتر کو مغلوب کر کے مصر کو فتح کرنے کا وہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا، لہٰذا اس نے یہ تہیہ کر لیا کہ قبل اس کے کہ ان کے ہاتھوں میں اقتدار منتقل ہو، انہیں ٹھکانے لگا دے۔ چنانچہ اس نے شہر عریش کے ایک تعلقہ دار سے یہ سازباز کی کہ جب مالک مصر جاتے ہوئے عریش سے گزریں تو وہ کسی تدبیر سے انہیں ہلاک کر دے اور اس کے عوض اس کی جائیداد کا مالیہ وا گزار کردیا جائے گا۔ چنانچہ مالک اشتر جب اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ عریش پہنچے تو اس نے بڑی آؤ بھگت کی اور آپ کو مہمان ٹھہرانے پر مصر ہوا۔ آپ اس کی دعوت کو منظور فرماتے ہوئے اس کے ہاں فروکش ہوئے اور جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے شہد کے شربت میں زہر کی آمیزش کر کے آپ کے سامنے پیش کیا جس کے پیتے ہی زہر کا اثر شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تلواروں کے سایہ میں کھیلنے والا اور دشمن کی صفوں کو الٹ دینے والا خاموشی سے موت کی آغوش میں سو گیا۔
جب معاویہ کو اپنی اس دسیسہ کا ری میں کامیابی کی اطلاع ہوئی تو وہ مسرت سے جھوم اٹھا اور خوشی کا نعرہ لگاتے ہوئے کہنے لگا:
اَلَا وَ اِنَّ لِلّٰہِ جُنُوْدًا مِّنْ عَسَلٍ.
شہد بھی اللہ کا ایک لشکر ہے۔[۳]
اور پھر ایک خطبہ کے دوران میں کہا کہ:
كَانَ لِعَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ؑ يَدَانِ يَمِيْنَانِ، فَقُطِعَتْ اِحْدَاهُمَا يَوْمَ صِفِّيْنَ وَ هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَّ قَدْ قُطِعَتِ الْاُخْرَى الْيَوْمَ وَ هُوَ مَالِكٌ الْاَشْتَرُ.
علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دو دست راست تھے: ایک صفین کے دن کٹ گیا اور وہ عمار یاسر تھے اور دوسرا بھی قطع ہو گیا اور وہ مالک اشتر تھے۔[۴]

[۱]۔ منہاج البراعۃ، ج ۲۰، ص ۱۶۲۔
[۲]۔ معانی الاخبار، ص ۱۹۵۔
[۳]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۷، ص ۱۶۰۔
[۴]۔ شرح ابن ابی الحدید، ج ۶، ص ۷۶۔